قومی اسمبلی کا اجلاس 5 نومبر کو بلا نے کا فیصلہ
قومی اسمبلی کا اجلاس 5 نومبر کو بلائے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ کالعدم تنظیم سے معاہدہ سمیت دیگر سیاسی امور زیر غور آئیں گے۔
اجلاس میں اہم قانون سازی بھی کی جائے گی،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ہی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائیگا۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس 5نومبر کو بلائے جانے کا امکان ہے، اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال خاص طور پر کالعدم تنظیم کے مظاہرین سے پیدا شدہ حالات اور حکومت اور تنظیم کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بحث کا امکان ہے۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اہم قانون سازی بھی قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈا کا حصہ ہوگی۔
اس کے علاوہ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ہی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائیگا، جس میں ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال، افغانستان کے موجودہ حالات پر بات ہوگی۔
دوسری جانب حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان معاہدے کا معاملہ سینیٹ تک پہنچ گیا ۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضی نے سینیٹ میں معاہدے سے متعلق قرارداد جمع کروادی ۔
قرارداد میں سوال اٹھایا گیا ہے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان کن شرائط پر معاہدہ ہوا، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سینٹ میں بحث کروائی جائے، حکومت معاہدے کرلیتی ہے جن پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
کامران مرتضی کہتے ہیں عملدرآمد نا ہونی کی صورت میں قوم کو اذیت کا سامناکرنا پڑتا ہے، معاملے پر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ۔