،جماعت اسلامی کا ڈی چوک پر احتجاجی مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف 28 نومبر کو ڈی چوک پراحتجاجی مارچ کا اعلان کردیا ۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ خان صاحب نے رات و رات پھر پٹرول بم گرایا ۔ پشاورسے نکلا پٹرول کی قیمت اورتھی جب اسلام آباد پہنچا تو کچھ اور تھی، حکومت نے ملکی ادارے کمزور کردیئے ۔
جماعت اسلامی پنجاب کے نومنتخب امیرڈاکٹرطارق سلیم کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم بے شک سبسڈی نہ دیں صرف اپنے دورکی بڑھائی ہوئی قیمتیں واپس لے لیں۔
ان کا کہنا تھا خان صاحب نے رات و رات پھر پٹرول بم گرایا، پشاورسے نکلا پٹرول کی قیمت اور تھی جب اسلام آباد پہنچا تو کچھ اور تھی ۔
سراج الحق کا کہنا تھا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے، جماعت اسلامی کے زیر اہتمام 28 نومبرکو ڈی چوک اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا جائے گا ۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا حکومت نے ملکی ادارے کمزور کئے اور کرپشن میں اضافہ کیا ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بارپھر بڑا اضافہ کردیا، پیٹرول مزید 8 روپے 3 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے سے نئی قیمت 145روپے 82 پیسے مقرر کردی گئی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔وفاقی حکومت نےرات کی تاریکی میں عوام پرپیٹرول بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بارپھربڑا اضافہ کردیا۔
وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 3 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 137 روپے 79 پیسے سے بڑھ کر 145 روپے 82 پیسے ہوگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 134 روپے 48 پیسے سے بڑھ کر 142 روپے 62 پیسے ہوگئی۔اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد 110 روپے 26 پیسے سے بڑھ کر 116 روپے 53 پیسےاور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 5 روپے 72 اضافے کے بعد 108 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 114 روپے7 پیسے ہوگئی۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ریکوری میں کمی کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، اگر اوگرا کی سمری کے مطابق پیسے بڑھاتے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا۔