افغانستان پر ٹرائیکا پلس اہم اجلاس جمعرات کو ہوگا
افغانستان میں قیام امن ، معاشی وانسانی کی صورتحال پر ٹرائیکا پلس اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے،
اجلاس میں پاکستان، امریکہ ، روس اور چین کے نمائندہ خصوصی شرکت کرینگے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان پرقائم ٹرائکا پلس کا اجلاس 11 نومبر کو اسلام آباد میں ہو گا۔
ذرائع کے مطابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق اجلاس کی صدارت کرینگے، امریکہ، روس اورچین کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان شریک ہونگے۔
اجلاس میں افغانستان میں امن و امان معاشی صورتحال سمیت دیگرمعاملات پرتبادلہ خیال کیا جائیگا، 22 ستمبرکو روس، چین اور پاکستان کے خصوصی نمائندوں نے کابل کا دورہ کیا تھا جہاں افغان عبوری حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ سیاسی قائدین سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان اور تحریک طالبان میں سیز فائر معاہدہ
دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یکم اکتوبر2021کو اپنے انٹرویو میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا، ان مذاکرات کی شروعات ہو چکی ہے.
انہوں نے کہا ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پرآمادہ ہوچکے ہیں.جو مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے.کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین اور قانون سے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی.
ان کاکہنا تھا ان مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا.مذاکرات میں ان علاقوں کے متاثرہ افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے.
فواد چوہدری نے مزید کہا مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی.مذاکرات میں افغانستان کی اتھارٹیز (عبوری حکومت) نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے.یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے ایک طویل عرصے کے بعد مکمل امن کی طرف بڑھ رہے ہیں.