'عالمی برادری افغان صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے'

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کی...
شائع 12 نومبر 2021 07:46pm

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کی صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے۔ افغان عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لیے منجمد اثاثوں کی رہائی سمیت فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سے ٹرائیکا پلس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان کی ملاقات ہوئی ہے جس میں وزیراعظم نے ٹرائیکا پلس میکانزم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال اور چیلنجز پر قابو پانے کے لیے کامیاب ٹرائیکا پلس کے انعقاد پر خصوصی نمائندگان کو مبارکباددی ۔

ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام ضروری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نےانسانی حقوق کے احترام اور انسداد دہشت گردی کے پرعزم اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ عملی اور تعمیری کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزیر اعظم نے افغانستان میں انسانی بحران اور اقتصادی تباہی سے بچنے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا۔

دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ، روس اور چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے ملاقاتیں کی ہیں ۔اور باہمی تعاون،علاقائی سیکیورٹی ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ، تینوں نے افغان صورتحال، سرحدی انتظام کی خصوصی پاکستانی کاوشوں کو سراہا۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکہ ، چین اور روس کے نمائندہ برائے افغانستان نے ملاقات کی۔

ملاقات میں باہمی تعاون،افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ روائتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے ۔

آرمی چیف نے افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے دنیا پر تعاون و مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے تعاون کرے ۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان تمام علاقائی ممالک سے دوطرفہ سطح پر مفید تعلقات کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روس کے ساتھ طویل المیعاد کثیر الجہتی تعلقات کا خواہشمند ہیں۔

ملاقات میں تینوں نمائندہ خصوصی نے افغان صورتحال، سرحدی انتظام کی خصوصی پاکستانی کاوشوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی علاقائی استحکام کے لیے کاوشیں انتہائی قابل قدر ہیں۔ پاکستان سے ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید وسعت کے لیے پرعزم ہیں۔

Read Comments