نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سے کیسز چلانے ہیں؟ چیئرمین نیب سے استفسار
احتساب عدالت کے جج نے چئیرمین نیب خط لکھ کرفہرست کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ بتایا جائے، نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سے کیسز چلانے ہیں ۔
خط میں کہا گیا کہ ملزمان ترمیمی آرڈیننس کے تحت بریت کی درخواستیں دائرکررہے ہیں،ختم کرنے والے ریفرنس کی فہرست فراہم کی جائے تاکہ عدالت کا وقت بچایا جاسکے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے چیئرمین نیب کوخط لکھ کر تفصیلات طلب کرلیں۔
خط میں کہا گیاکہ ترمیمی آرڈیننس میں چئیرمین نیب کو کیس واپس لینے کا اختیار دیا گیا ہے، ملزمان ترمیمی آرڈیننس کےتحت بریت کی درخواستیں دائرکر رہے ہیں جوکیسز واپس لینے یا ختم کرنے ہیں ان کی فہرست فراہم کی جائے۔
جج احتساب عدالت نے کہاکہ واپس لینے والے ریفرنسز کی فہرست ملنے سے قیمتی عدالتی وقت بچ جائے گا اورزیر سماعت رہنے والے کیسز نمٹانے میں تاخیر نہ ہو۔
تیسرا نیب آرڈیننس جاری
یکم نومبر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تیسرا نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا،جس کے تحت چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ جج کی طرزپر ہٹایا جا سکے گا،عوام سے فراڈ اور دھوکہ دہی کے پرائیویٹ افراد بھی دوبارہ نیب کی زد میں آگئے۔
نیب آرڈیننس میں دوبارہ ترمیم کے بعد وفاقی حکومت نے نیا آرڈیننس جاری کر دیا، صدر پاکستان کی منظوری کے بعد تیسرا نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا،جس کا اطلاق 6اکتوبرسے ہوگا۔
ترمیم کےتحت جعلی اکاؤنٹس کےکیسزپرانے آرڈیننس کےتحت جاری رہ سکیں گے ،عوام الناس سےفراڈ اوردھوکہ دہی کے پرائیویٹ افراد بھی دوبارہ نیب کے حوالے کردیئے گئے ،جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اورمضاربہ اسکینڈل سمیت دیگر کیسزدوبارہ کھل گئے ۔
سابق صدرآصف زرداری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان، مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف اورمسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا، پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسزویسے ہی چلیں گے۔
نئی ترمیم کے تحت زرضمانت کے تعین کا اختیار بھی عدالت کو دے دیا گیاجبکہ پہلے ترمیمی آرڈیننس میں جرم کی مالیت کے برابرمچلکے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔