'موجودہ حکمران ایسٹ انڈیاکمپنی کےغلاموں کی اولادہیں'
امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے وزارت خزانہ نے پاکستانی روپےکوکاغذکاٹکڑا بنا کررکھ دیا ہے،موجودہ حکمران ایسٹ انڈیاکمپنی کےغلاموں کی اولادہیں۔
ملتان میں امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی تھی ڈالرز کی بارش ہوگی، تاہم پاکستانی روپےکوکاغذکاٹکڑا بنا کررکھ دیا ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمران ایسٹ انڈیاکمپنی کےغلاموں کی اولادہیں، خاندان کی بنیادپرسیاسی پارٹیاں چلائی جارہی ہیں۔
سراج الحق نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں کونسی جمہوریت ہے؟ حکومت نے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک کروڑنوکریاں اور50لاکھ گھردینے کااعلان کیا، تاہم روزگاردینےوالوں نےبیروزگاری بڑھادی ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کے پاس وقت نہیں ہے،عمران خان نے جھوٹ کو یوٹرن کا نام دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نےیوٹرن کوبڑے لیڈر کی نشانی کہا، حکومت سابقہ حکمرانوں جیسےکام کررہی ہے، پینڈوراپیپرزمیں شامل700افراددہشتگرد ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ تین سال کے دوران 41 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں قرضوں میں 14 ہزار 906 ارب کا اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے ملک کے اندرونی وبیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کی گئیں۔
وزارت خزانہ کی سینیٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 460 ارب روپے ادا کر چکی ہے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ تین سال کے دوران سود کی مد میں 50 فیصد ادائیگی کی گئی۔ موجودہ حکومت کے تین برسوں میں پاکستان کے اندرونی قرض میں 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔
جون 2018 میں ملک کے اندرونی قرضے 16 ہزار ارب تھے۔ اگست 2021 تک اندرونی قرضے 26 ہزار ارب سے بڑھ گئے۔
تین سال میں ملک کے بیرونی قرض میں ساڑھے 6 ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔ جون 2018 میں بیرونی قرض ساڑھے 8 ہزار ارب تھا۔
اگست 2021 تک بیرونی قرض ساڑھے 14 ہزار ارب سے تجاوز کرگیا۔ جون 2018 میں ملک پر مجموعی قرض 25 ہزار ارب روپے تھا۔ اگست 2021 تک ملک کا مجموعی قرض 41 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔