قانون سازی کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج ہوگا
قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہونے جا رہا ہے، قومی اسمبلی سے منظورمگر سینیٹ سے نامنظور 20 کے قریب بل قانون سازی کے لئے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جائینگے۔
بلز کی منظوری کےلیے وزیراعظم خود متحرک ہیں، اتحادیوں کو رام کرنے کے بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کرلیا۔
حکومت کی کاوشیں کارگر ہوگئیں اور اتحادیوں بھی راضی ہوگئے ۔ قانون سازی کی مکمل تیاری کرلی گئی۔
اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے وزیراعظم کو فرنٹ فٹ پر آنا پڑا ، ملاقاتیں کی اور گلے شکوہ سنے اوراعتماد میں بھی لیا ۔
اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اورق لیگ نے حمایت کا اعلان کردیا۔
وفاقی وزیرامین الحق نے تصدیق کرتے ہوئے تمام قانون سازی میں ساتھ دینے کی تصدیق کی جبکہ سینیٹرکامل علی آغا نے بھی ق لیگ کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کروا دی۔
وزیراعظم نے پارلیمنٹ ہاوس میں اپنے چیمبرمیں وزارء سے ملاقاتیں بھی کیں۔
وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری ،فخرامام ، اٹارنی جنرل اورعامر ڈوگرسے الگ الگ ملاقات ہوئی ، ملاقاتوں میں مشترکہ اجلاس اور قانون سازی پر مشاورت کی گئی۔
پہلے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس موخر، اپوزیشن کی تنقید
پہلے بھی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا اور اس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا تاہم پھر اچانک اسکو موخرکردیا گیا تھا۔ جس پر اپوزیشن نے شدید تنقید کی تھی۔
سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مبینہ التوا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اچانک سے اجلاس بلایا جاتا ہے اور پھر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ بہتر ہے پارلیمنٹ کو تالے لگا دیئے جائیں ۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی ۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈریوسف رضا گیلانی ،سینٹر رضا ربانی اور دیگر نے کہا کہ اراکین ملک بھر سے تیاری کے ساتھ آۓ ہیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ مشترکہ اجلاس موخر کیا جا رہا ہے۔
اس موقعے پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے فیصلوں سے پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، امریکہ کو ہوائی اڈوں کے دئیے جانے کا معاملہ ہے، ٹی ٹی پی سے مزاکرات کے معاملات سے پارلیمان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
رضا ربانی کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے احتجاج اورشورشرابا کیا۔