کراچی :سال دوہزار اکیس،75 ہزار شہری اسٹریٹ کرمنلز کا شکار کا شکار بنے
سال 2021شہری قائدکےباسیوں کےلیےلوٹ مارکاسال رہا،ماہ جنوی سےدسمبرکی ابتداءتک 75ہزارزائدشہراسٹریٹ کرمنل کاشکاربنے،کئی ڈاکوں کی فائرنگ سےجان سےبھی گئے،قتل کےواقعات میں 442افرادکومت کےگھاٹ اتاردیاگیا۔
سال 2021کاماہ آخر،اور لوٹ مار،چوری ڈکیتی کےاعتبارپوراسال قائدکےباسیوں پربھاری گزرا، سی پی ایل سی رپورٹ کےمطابق ماہ جنوری سےدسمبرکی ابتداء تک سڑکوں گھومتےبےلگام لٹیروں نے75ہزارسےزائدوارداتیں انجام دیں۔
موبائل فون چھیننےکی 23124 واردتیں رپورٹ ہوئیں جن میں سےسب سےزیادہ وارداتیں ماہ اپریل میں 2189رپورٹ ہوئیں۔
موٹرسائیکل لفٹروں میں 4145شہریوں کوسستی سواری موٹرسائیکل سے محروم کیا،ماہ ستمبرمیں سب سےزیادہ موٹرسائیکل چھیننےکی واردتیں 447رپورٹ کی گئیں،اسلحہ کےزورپردوسوپندرہ شہریوں کوقیمتی کاروں سےہاتھ دھوناپڑا،کاریں چھینےکی زیادہ تروارداتیں ماہ اپیرل میں سامنےآئیں جب 28کاریں چھینی گئیں۔
چوری کی وارداتوں میں ایک ہزارسات سودوکاریں اور43003موٹرسائیکلیں غائب ہوئیں، اے وی ایل سی اورپولیس کارروائیوں کےدوران صرف 2716موٹرسائیکلیں اور470کاریں برآمدکرسکی۔
سی پی ایل سی رپورٹ کےتحت قتل اورغارت گری کےمختلف واقعات میں 442افرادکوقتل کیاگیا،ماہ جنوری میں قتل کی سب سےزیادہ وارداتیں 50 رپورٹ کی گئیں،بھتہ خؤروں نے23وارداتیں انجام دیںاغؤابرائےتاوان کرنےوالےاغواکاروں نے15وارداتیں کیں۔
اسلحہ کےزورپربینک ڈکیتی کی دو،بینک میں لاکرزچوری کی ایک،بینک کےباہرکیش وین لوٹنےکی دوواردتیں سامنےآئیں، جرائم کی کئی داستانیں لیےرخصت ہونےوالاسال 2021شہریوں پربھاری رہا۔
نئی امیدوں کےساتھ آنےوالےنئےسال سےامیدیں یہ ہی ہیں کہ قانون کےرکھوانےبےلگام لٹیروں کولگام ڈال کرشہریوں کی کسی حدتک جان مال لٹیروں سےمحفوظ بناسکیں گے۔