سندھ:21 ہزار بھرتیوں کا طریقہ کار عدالت میں چیلنج

ایم کیو ایم پاکستان نے نئی 21 ہزار بھرتیوں کے طریقہ کار کو عدالت...
اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2021 10:15pm

ایم کیو ایم پاکستان نے نئی 21 ہزار بھرتیوں کے طریقہ کار کو عدالت میں چلینج کردیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہاگیا کہ سندھ میں من پسند افراد کو سرکاری ملازمتوں پر بھرتی کیا گیا ہے،سندھ میں گریڈ ایک اے 15 تک سرکاری ملازمتوں پر بھرتیوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ آئی بی اے سکھر سے ٹیسٹ پاس کراکر مختلف 38 محکموں میں بھرتی کیا جارہا ہے،

درخواست دائر کرنےکے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیوایم رہنما کنور نوید جنمیل کاکہناتھا کہ سندھ ہائیکورٹ میں حکومت سندھ کے ملازمتوں کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے،سندھ حکومت نے جعلی ڈومیسائل بناکر شہریوں کو بیچا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا،شہریوں کی نوکریاں دیگر لوگوں کو فراہم کی گئی،سندھ کے شہری نوجوانوں پر 1 سے 15 گریڈ کے دروازے بند کردیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اراکین سندھ اسمبلی نے حکومت سندھ کیخلاف درخواست دائر کی ہے،نوکریوں میں شفافیت کو استعمال کیا جائے،نوکریوں کے حصول کے لئے آئی بی اے کراچی کو چھوڑ کر آئی بی اے سکھر کو استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ آئی بی اے کراچی کو استعمال کریں اور نوکریوں کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

Read Comments