سال دوہزار اکیس میں وفاقی کابینہ کی کارکردگی پر رپورٹ
سال دو ہزار اکیس میں وفاقی کابینہ کی کارکردگی کیسی رہی ، دو ہزار اکیس میں کابینہ کے کتنے اجلاس ہوسکے ، وفاقی کابینہ میں ردوبدل کتنا ہوا ، وفاقی کابینہ کی جانب سے کئے گئے فیصلوں پر کتنا عمل درآمد ہوا۔
سال دو ہزار اکیس میں وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے 46 سے زائد اجلاس ہوئے۔
ای و ایم ، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ای ووٹنگ ، بجٹ براے مالی سال 2021-22 کی منظوری اور تحریک لبیک پاکستان سے پابندی ہٹانے سمیت اہم امور کی منظوری دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے احساس آرڈیننس کی منظوری دی، شوگر سیکٹر میں اصلاحات رپورٹ جاری کی گئی ، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد براڈشیٹ انکوائری کا اجرا بھی کیا گیا۔عشرہ رحمت العالمین بھی منایا گیا گیا جبکہ رحمت العالمین اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
حکومت کی جانب سے صحت سہولت پروگرام ، نیا پاکستان پروگرام ، سبسڈائیز راشن پروگرام تشکیل دیے گئے۔
وفاقی کابینہ نے افغانستان کیلئے امدادی پیکج کی بھی منظوری دی گئ ، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس فرد واحد کی بجاے تمام فیصلے کابینہ کی منطوری کے بعد کیے جاتے ہیں۔
سال دو ہزار اکیس میں وفاقی کابینہ میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ 6 سے زائد وزرا کے قلمدان تبدیل کیے گئے۔ فواد چوہدری کو ایک مرتبہ پھر اطلاعات کی وزارت کا قلمدان دیا گیا ۔
وزیر خزانہ کے لیے شوکت ترین کو مشیر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ ایوب افریدی کو مشیر اورسیز پاکستانیز، مونس الہی کو وفاقی وزیر ابی وسائل مقرر کیا گیا۔
وفاقی کابینہ کا حجم 50 سے تجاوز کرگیا جس میں 27 وفاقی وزیر، 4 وزیر مملکت، 5 مشیر اور 17 معاونین خصوصی شامل ہیں۔ ظہور اغا کو بلوچستان کا نیا گورنر تعینات کیا۔
فیصل واڈا، ندیم افضل چن، عشرت حسین اور وقار مسعود کا استعفی مظور کیا گیا۔
خالد منصور کو چیرمین سی پیک اتھارٹی کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا۔ ارباب غلام رحیم ، شاہ زین بگئی کو سندھ اور بلوچستان امور کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا۔
کابینہ کی کا رکردگی پر حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے حکومت کی جانب سے رواں سال اٹھاے گئے اقدامات کو یکسر مسترد کیا ۔
ان کا کہنا ہے کہُ حکومت نے جو مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہے اس سے غریب عوام پریشانی کا شکار ہے۔
وزیراعظم افس سے جاری اعداد و شمار کے مطابق عوامی مشکلات کو دور کرنے کے لیے شہریوں کی جانب سے پاکستان سیٹیزن پورٹل پر چار عشاریہ چار ملین شکایات درج کی گئی جس میں سے اب تک 40 لاکھ شکایات نمٹائی جاچکی ہیں۔