سال دوہزار اکیس مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے بھاری
سال دو ہزار اکیس مسلم لیگ نون سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کیلئے بھی بھاری رہا۔ متعدد سیاسی رہنماوں کو گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاست کے کھلاڑیوں سمیت کرکٹر، بیوروکریٹ اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی ریلیف کیلئے عدالتوں کا رخ کیا۔
سیاستدانوں کیلئے سال دو ہزار اکیس کچھ زیادہ خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔ سیاست کے ستارے نیب کے تابڑ توڑ حملوں کے باعث عدالتوں کی راہداریوں میں نظر آتے رہے۔
شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، سعد رفیق، سلمان رفیق، برجیس طاہر اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنے خلاف مقدمات کیلئے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔
وزیراعظم عمران خان کیخلاف شہباز شریف اور سابق پی سی بی چئیرمین نجم سیٹھی کی جانب سے ہتک عزت دعوٰی لاہور کی ماتحت عدالت میں زیر التواء ہے۔
پی ٹی آئی رہنماء جہانگیر ترین چینی سکینڈل میں نامزد رہے۔ صوبائی وزیر سبطین خان اور پیپلز پارٹی کے رہنماء آصف ہاشمی کے مقدمات بھی احتساب عدالت میں زیر التواء ہیں جبکہ وزیراعظم کے ترجمان شہباز گل کیخلاف ہتک عزت دعوی زیر سماعت ہے۔مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی اور مونس الہی سمیت گھرانے کے 12 اراکین کیخلاف امدن سے زائد اثاثہ جات اور دیگر مقدمات بند کئے گئے۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں سیاسی شخصیات کیخلاف عدم ثبوتوں کے باعث اکثر سزا نہیں ہو پاتی۔
کرکٹ اور شوبز کے ستاروں کیلئے بھی سال 2021 مشکل رہا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ، اداکار علی ظفر اور گلوکارہ میشاء شفیع، سٹیج ادکارہ خوشبو، ادکارہ صبا قمر، اداکارہ صوفیہ مرزا سمیت ادکارہ میرا کے تکذیب نکاح کے فیصلے کیخلاف اپیل زیر التواء ہے۔