'حکومت نے آج پاکستان کی معاشی خود مختاری آئی ایم ایف کے حوالے کردی'
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کہتے ہیں حکومت نے آج پاکستان کی معاشی خود مختاری آئی ایم ایف کے حوالے کردی۔ منی بجٹ میں قوم پر تین سو ساٹھ ارب روپے سے زائد ٹیکس لگائے ہیں۔
شہبازشریف نےاپنےبیان میں کہا کہ یہ پہلا بجٹ ہے جس میں عوام کے لئے کوئی ریلیف کوئی رعایت نہیں۔نیا سال حکومت کے ظلم سے مہنگائی کا سال بنا دیا گیا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیاسال حکومت کےظلم سےمہنگائی کا سال بن گیاہے۔
شہبازشریف نے مزیدکہا کہ حکومت نےاسٹیٹ بینک کو پاکستان سے ہی آزاد کردیا ہے۔
شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں پاکستان کواپنےہی بینک سےپیسانہیں مل سکےگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلا بجٹ ہےجس میں عوام کیلئےکوئی رعایت نہیں۔
قومی اسمبلی میں ضمنی فنانس بل پیش
اس سے قبل قومی اسمبلی میں ضمنی فنانس بل پیش کردیا گیا ۔ سٹیٹ بنک ترمیم بل2021 بھی ایوان میں پیش کردیا گیا، اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے بھرپورمخالفت کی گئی ۔
اسپیکرنے رولنگ دی کہ ضمنی مالیاتی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کونہیں بھیجا جائے گا ۔ اپوزیشن کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ توسیع کے لئے بھیجے جانے والے آرڈیننسزمیں سے 6 زائد المعیاد ہوچکے، اس اعتراض کو اسپیکر اسد قیصر نے اپنی رولنگ کے ذریعہ مسترد کردیا ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکراسد قیصرکی صدارت میں ہوا، اجلاس کے آغاز میں ہی ایوان نے وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹسز معطل کرنے کی تحریک منظورکرلی ۔
اجلاس میں وزیرخزانہ شوکت ترین نے ایوان میں ضمنی مالیاتی بل2021 پیش کیا جس میں محصولات اورڈیوٹیز سے متعلق بعض قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں ۔
اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے بھرپور مخالفت اور ہنگامہ آرائی کے باوجود قومی اسمبلی کی کارروائی جاری رہی۔
تاہم وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیا گیا سٹیٹ بنک ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا، یہ بل معمول کے ایجنڈے میں نہیں تھا، یہ سپلیمنٹری ایجنڈا آئٹم کے طور پرلایا گیا تھا ۔
ایوان نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ قومی اسمبلی انتخابات ترمیم سوئم آرڈیننس2021 میں 29دسمبر سے توسیع منظور کرلی ۔ اور سرکاری املاک تجاوزات آرڈیننس میں ایک سو بیس دن توسیع کی منظوری دیدی،برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے آرڈیننس کی مدت میں توسیع پر گنتی کی گئی
قرارداد کے حق میں 145 جبکہ مخالفت میں 3 اراکین نے ووٹ دیا ۔