Aaj Logo

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2022 12:33pm

ٹرانس جینڈرپرسنز ایکٹ2018 : ایسے حقائق جو آپ نہیں جانتے

ٹرانس جینڈرپرسنز(پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 ۔۔ سیاست کے بعد سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ زیربحث موضوع جسے مذہب سے متصادم بتاتے ہوئے حمایت سے زیادہ مخالفت کی جارہی ہے، معاملہ وفاقی شرعی عدالت میں زیرسماعت بھی ہے۔

عام الفاظ میں ٹرانس جینڈرایکٹ کہلانے والا یہ قانون مسلم لیگ ن کی مدت اقتدارکےآخری دنوں میں پیش کیا گیا تھا جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، پیپلز پارٹی سینیٹرز(روبینہ خالد، روبینہ عرفان، ثمینہ سعید، کلثوم پروین، کریم احمد خواجہ ) کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس بل کی حمایت میں ن لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف سمیت سبھی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ووٹ دیا جس سے یہ ایکٹ کی حیثیت اختیارکرگیا۔

معاملہ 4 سال پُرانا ہے

چارسال قبل بنائے جانے والےقانون کا بنیادی مقصد پاکستان میں خواجہ سراؤں کا تحفظ یقینی بناتے ہوئےاُن کےاستحصال کی حوصلہ شکنی تھا،رواں ماہ 5 ستمبرکو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں ایکٹ سے متعلق گزشتہ سال 15 نومبر2021 کوسینیٹ اجلاس میں پیش کی جانے والی ترامیم کا مسودہ زیربحث آیا جسے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والےسینیٹرمشتاق احمد خان نے پیش کیا تھا، اس کے بعد سے سوشل میڈیا پرمعاملہ گرم ہے اور اسے اسلامی اقدار کے منافی قراردیاجارہاہے۔

ایکٹ کیخلاف پیش کیے جانے والے ترمیمی بل کے مطابق :

اس قانون میں مکمل مردوعورت کوبھی ٹرانس جینڈرقراردیا گیا ہے، اسے ختم کیاجائے۔ٹرانس جینڈرکے لیے جنس کا تعین ذاتی تصورکی ہوئی شناخت ( self perceived gender identity ) کے بجائے میڈیکل بورڈ سے مشروط کیا جائے،یعنی ڈاکٹرزکی اجازت کے بغیرجنسی اورصنفی شناخت تبدیل کرنے کے خواہش مند لوگوں کا طبی معائنہ لازمی قراردیا جائے۔

مشتاق احمد خان نے ایکٹ میں تیسری جنس کی پہچان صرف انٹرسیکس کے طورپرکرنے کی تجویزدی ، ترمیمی بل پرووٹنگ قائمہ کمیٹی کےاکتوبرمیں ہونے والے اجلاس میں ہوگی.

بنیادی نقطہ اعتراض یہ ہے کہ،“بل پیش کرنے والوں نےخواجہ سراؤں کےحقوق کا سہارا لےکرہم جنس پرستوں کے لیے قانونی تحفظ کاچورراستہ اختیارکیا ہے۔ “

جوکام انگریزوں نے نہیں کیا وہ ہمارے حکمران کررہے ہیں

اس حوالے سے رابطہ کرنے پرسینیٹرمشتاق احمد خان نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈرزقابل احترام ہیں جن کے حقوق کا تحفظ کرناچاہیے لیکن ایکٹ کا حقیقی ٹرانس جینڈرزکے حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ثقافتی یلغارہے جو ہم پرمسلط کی جارہی ہے۔ سیکولرملک بھارت میں جنس کی تبدیلی میڈیکل بورڈ سے مشروط ہے جبکہ برطانیہ میں بھی جنس تبدیلی کی درخواست دینے کے بعد 2 سال انتطارکرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے نادرا کے حوالے سے وزارت داخلہ کی تحریری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جون 2018 سے جون 2021 کے دوران 3سال کے عرصہ میں 28 ہزار 723 افراد نے اپنی جنس تبدیل کی ہے، مرد سے خواتین بننے والوں کی تعداد 15 ہزار 530 ہے، خواتین سے مرد بننے والوں کی تعداد 12 ہزار 154 ہے، 9 مرد ٹرانس جینڈر بنے جبکہ 21 ٹرانس جینڈر مرد اور 9 خواتین بنے۔

یہ قانون معاشرے کے لیے ٹائم بم ہے

سینیٹرمشتاق احمد خان کے مطابق قانون کے باب 2 سیکشن 3 میں اپنی مرضی کی شناخت اختیارکرنے کی اجازت ( self perceived gender identity )کا حق دیا گیا ہے یعنی کہ مکمل مرد یا عورت نادرا کو اپنی مرضی کی صنفی شناخت کی درخواست دے سکتے ہیں اورنادرا کو ان کی بتائی گئی شناخت درج کرنے کا پابند کیا گیا ہے تو یہ حقیقی انٹرسیکس افراد کی آڑمیں تہذیبی جارحیت ہے، بائیولوجیکلی ایک مرد شناختی دستاویزات میں عورت ہوگا تو ’ ہم جنس شادیاں ’ فروغ پائیں گی اور ہم جنس پرستی کو بھی فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اعضاء میں بگاڑکی اجازت دے کرمردوعورت کوغلط طورپرٹرانس جینڈرڈیکلیئر کر کے پھرانہیں اجازت دی گئی تا کہ عوام کا ردعمل نہ آئے اور نہ وہ اس قانون کو سمجھیں، یہ متنازع قانون معاشرے اوراقدارکے لیے ٹائم بم ہے کہ جوکام انگریزوں نے نہیں کیا وہ ہمارے حکمران کررہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ میری ترامیم کے جواب میں حکومت کی جانب سے اسٹینڈنگ کمیٹی میں دائرکردہ جواب میں کہیں بھی قرآن وسنت کا ذکرنہیں ہے۔

مشتاق احمد خان نے بتایا کہ قانون پراسلامی نظریاتی کونسل نے بھی شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے جبکہ انٹرنیشنل کمیشن آف جیوریسٹ (آئی سی جے) کی جانب سے بھی اعترضات سامنے آئے ہیں ۔

ٹرانس جینڈرسرجری کرواسکتے ہیں

وفاقی شرعی عدالت میں زیرسماعت درخواستوں میں فریق اورٹرانسجینڈرزکے حقوق کی جدوجہد کرنے والی اسلام آباد سٹی پولیس کی انچارج ٹرانس جینڈرپروٹیکشن یونٹ نایاب علی اس ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 2017 میں یہ قانون بناتے ہوئے بائیولوجیکل،کلچراورسائیکولوجیکل انٹرنیشنل اسٹینڈرڈزکے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کا بھی جائزہ لے کر جامع تعریف شامل کی گئی تھی۔ ٹرانس جینڈرامبریلا ٹرم ہے جبکہ یونخ ( Eunuch ) وہ افراد ہیں جو جینڈرڈسفوریا کا شکارہوتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر ہونے کے باعث خود بھی کئی حملوں کا نشانہ بننے والی نایاب علی نےآج ڈیجیٹل کو بتایا کہ ورلڈ جنرل کے تحت انٹرنیشنل کلاسیفیکشن آف ڈیزیزنمبر 10 ( آئی سی ڈی 10) وہ ذہنی حالت ہے جس میں کہ آپ تمام تراعضاء کے ساتھ پیدا ہوئے لیکن آپ اپنی حالت سے مطمئن نہیں ہیں اورمرد سےعورت یاعورت سے مرد بننا چاہتے ہیں، ورلڈ اورامریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن بھی اس حالت کو تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے مصرکی جامعہ الازھرکے سابق سربراہ شیخ علی طنطاوی اور امام خمینی کا فتویٰ موجود ہے کہ جینڈرڈسفوریا موجود ہے اورایسا شخص سرجری کرواسکتا ہے، ایران میں تو یہ سب حکومتی سرپرستی میں ہوتا ہے اورہارمونل تھراپی بھی ہوتی ہے توان سب کے مذہبی، سائنسی، ثقافتی گراؤنڈزموجود ہیں۔

لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے

نایاب علی کے مطابق ، “ قانون میں کہیں درج نہیں کہ مرضی سے جنس تبدیل کروائی جاسکتی ہے، یہ اجازت صرف ان کوہے جوخود کو خواجہ سراسمجھتے ہیں۔ جس کے پاس خواجہ سرا (مرد، عورت یا مخنث )کا شناختی کارڈ ہےتو وہ تو پاکستانی قانون کے تحت شادی کرہی نہیں سکتا، لیکن اگرمرد کاشناختی کارڈ رکھنے والا خود کو عورت رجسٹرکروائے تو یہ انتظامی معاملہ ہے جس کا نادراسے پوچھا جائے۔ لاہورمیں سامعہ نامی خاتون نے ہائیکورٹ سے جنس تبدیلی کی اجازت لی تھی، اس کیس کا فیصلہ موجود ہے اورنادرا یہی طریقہ کارفالو کرتا ہے اس لیے مرد کا عورت یا عورت کا مرد بننے کا ٹرانس جینڈرایکٹ سے کوئی تعلق نہیں، اس کیس میں عدالتی نظیرموجود ہے۔“

نایاب علی نے کہا کہ ، “وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کی جانے والی ٹرانس جینڈرکی تعریف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ سائنسی اورمذہبی طور پر ثابت شدہ ہے جسے کم علمی کے باعث چیلنج کیا گیا، انسان کی شناخت اس کا ذاتی مسئلہ ہے اورآئین کا آرٹیکل 14 خواجہ سرا کویہ اجازت دیتا ہے۔ اگرہمیں اپنی شناخت حاصل کرنے کیلئے میڈیکل بورڈ کے سامنےسےگزرنا پڑے تو پھرمردوں اورعورتوں کو بھی اسی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت ہے۔ قانون میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں نہ ہی کسی قسم کا ابہام ہے۔ جماعت اسلامی ووٹ اسکورنگ کے لیےاوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے، اس میں کوئی غیرشرعی یاغیراسلامی چیزنہیں ہے”۔

ہمارا کلچر ایل جی بی ٹی سے مختلف ہے

ایل جی بی ٹی کیو کی طرزپرمعاشرے میں بگاڑ لانے اور ان سے روابط جیسے الزامات سے متعلق سوال پرنایاب نے کہا کہ پاکستانی خواجہ سراکمیونٹی خود کوبین الاقوامی تحاریک (انٹرنیشنل موومنٹ) سےہمیشہ الگ رکھتی ہے کیونکہ ہمارا کلچران سے بہت مختلف ہے، ہمارے معاشرے میں آج بھی خواجہ سراؤں سے دُعاکرائی جاتی ہے اور ان کی بددُعاسےڈراجاتا ہے، ہم صوفیاء کے ماننے والے اوررُوحانیت پریقین رکھتے ہیں، ہمیں ایل جی بی ٹی ایجنڈے کے ساتھ جوڑنا سختی سے قابل مذمت ہے۔

جنس کا تعین کسی ایک چیز سے مشروط نہیں

پشاورکے نارتھ ویسٹ جنرل اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹرمیں بطورپلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹوسرجن خدمات سرانجام دینے والے پروفیسرڈاکٹرعبید اللہ کے مطابق وہ 2018 میں اس ایکٹ کی منظوری سے قبل بھی جنس تبدیلی کے آپریشن کرتے آرہے ہیں اورسال میں 4 سے 5 آپریشنزایسے ہوتے ہیں جن میں مکمل جنس کی تبدیلی کی جاتی ہے۔

ڈاکٹرعبید بتایا کہ پیدائش کے وقت تک بننے والے اعضاء بعض اوقات ایسا ابہام رکھتے ہیں کہ نومولود کو لڑکے یالڑکی کا نام دے دیاجاتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا، جنس کا تعین کسی ایک چیزکے ساتھ مشروط نہیں کیاجاسکتا کہ اگرکسی کا مردانہ عضو ہےتو وہ مرد ہی ہے اورزنانہ ہے توعورت ہی ہے،اس کے لیے 5 کرائیٹیریا ہیں جو پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں اور پانچواں مرحلہ وہ ہے جو آپ کے اپنے ذہن میں تشکیل پاتا ہے ،جیسے کہ خودکشی کے خیالات آنا یا اقدام کرنا ڈپریشن کا انتہائی مرحلہ ہوتا ہے تو اسی طرح سے اگرمرد کے جسم میں کوئی خودکوخاتون سمجھے تو اندرونی طور پروہ خاتون ہی ہے کیونکہ ہم وہ ہیں جو ہمارا ذہن ہے۔

معاملہ ایسانہیں جیسا ظاہرکیا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ ، “لڑکے کا خود کولڑکی سمجھنا یا لڑکی کا خود کولڑکا سمجھنا ایک ذہنی کیفیت ہے جس کادوسرے اندازنہیں لگاسکتے” ، بل پربحث کرنے والےطبی معلومات نہیں رکھتے حتیٰ کہ یہ معلومات تمام ڈاکٹرزکے پاس بھی نہیں ہیں، اسمبلیوں یا منبرپربیٹھنے والے اس بات کا حق نہیں رکھتے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کریں، میں اس لیے جانتاہوں کیونکہ میں ایسے ہی لوگوں کا علاج کرتاہوں بلکہ ان تمام بچوں کا جوکسی نہ کسی وجہ سے دونوں جنسوں کے درمیان معلق ہوکررہ گئے ہیں، اس کا اطلاق کسی ایک قسم کے مریضوں پرنہیں ہوتا۔ ہیجڑا یا مخنث کہلانے والوں میں سے ہرایک کی جسمانی بڑھوتری کی الگ کہانی ہے، یہ الگ ہارمونز کے ساتھ پیداہوتے ہیں۔ “

ڈاکٹرعبید کے مطابق ، “ ہماری 20 سے زائد ڈاکٹرزکی ٹیم تمام عوامل کا جائزہ لے کر اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ ایسے کیسزوالوں کومستقبل میں لڑکی یا لڑکے کی حیثیت جائے، ڈاکٹرزکی رائے کی بنیاد پرعدالتی فیصلہ لیا جاتا ہے جس کے بعد کہیں جاکر شناختی کارڈ تبدیل ہوتا ہے، یہ معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ ظاہرکیا جارہا ہے“۔

یہ ایک مکمل طبیّ حالت ہے

انہوں نے ایک سروے رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ 2018میں ایکٹ کی منظوری کے بعد سے 12 ہزار لوگوں نے جنس تبدیل کروائی، ڈاکٹرعبید اللہ کے مطابق، “ میں جنس تبدیل کرنے والوں کےمسائل کی نوعیت نہیں جانتا لیکن ہمارے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں ہرسال 22 ہزار ایسے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے جن کے جنسی اعضاء میں ابہام ہوتا ہے اس لیے جنس تبدیل کروانے والوں کا یہ انتہائی معمولی تناسب ہے“۔

ڈاکٹرعبیداللہ نے مزید واضح کیا کہ یہ مکمل طورپر ایک طبیّ حالت ہے جس میں مذہب یا قانون کا کوئی عمل دخل نہیں ۔

ایکٹ کے متنازع تصورکیے جانے والے نُکات

اس قانون میں ٹرانس جینڈرکی تعریف کرتے ہوئے انہیں 3 اقسام انٹرسیکس(پیدائشی مخنث افراد )، خنثہ (درمیانی جنس یا پیدائشی جنسی ابہام رکھنے والے / جنسی اعضاء میں طبی ترامیم کروانے والے ) اورٹرانس جینڈر ( مرد یا عورت) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ٹرانس جینڈرکواپنی جنسی / صنفی شناخت اُس شناخت کے مُطابق نادرا یا دیگرحکومتی اداروں میں درج کروانے کا حق ہوگا جو وہ خود کوتصورکرتا ہے ۔ ہرٹرانس جینڈر 18 سال کی عُمرکا ہونے پرذاتی تصورکی ہوئی شناخت کے مُطابق شناختی کارڈ ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس بنواسکتا ہے اورجس کا شناختی کارڈ پہلے ہی بن چکا ہے وہ بھی ذاتی تصورکی ہوئی شناخت (he or she ) کو اپنے شناختی کارڈ ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس پر درج کروا سکتا ہے ۔

وراثتی جائیداد یا وراثت سے بے دخلی یا امتیازی سلوک نہیں روا رکھاجاسکتا،جو شناخت آئی ڈی کارڈ پردرج کروائیں گے اسی کے مطابق وراثتی حق دیاجائے گا ۔جو اپنی مردانہ یا زنانہ شناخت سے متعلق ابہام کا شِکارہیں ان پردرج ذیل اطلاق ہوگا ۔

اٹھارہ سال کی عمرہونے پرجِن کا اندراج بطورمرد ہے/ ہوگا انہیں بطورمرد جبکہ بطورعورت اندراج پربطورعورت ہی وراثتی حق ملے گا / دِیا جائے گا لیکن پھر بھی اگرکسی کو صنفی ابہام ہوا تو دوالگ الگ اشخاص یعنی مرد اورعورت کے وراثتی حقوق کا اوسط حصہ دیا جائے گا، نابالغ ( 18 سال سے کم عمر)ہونے کی صُورت میں میڈیکل آفیسرکی رائے کے مُطابق طے ہوگا ۔

اس کے علاوہ ایکٹ کے تحت متعلقہ حکومتوں پرٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فلاح وبہبود کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عوامی مقامات، کام کی جگہوں اوروراثت کے حصول میں حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہے،یہ قانون امتیازی سلوک سے منع کرتے ہوئے ٹرانس جینڈرزکو ووٹ دینے یا کسی عہدے کے لیے انتخاب کا حق دینے،حکومت کوجیلوں میں مخصوص جگہوں اورپروٹیکشن سینٹرز کے قیام کا پابند بناتا ہے۔ ٹرانس جینڈرز کو بھیک مانگنے پررکھنے یا مجبُورکرنے والے کو6 ماہ تک کی قید یا 50 ہزارروپے جُرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔

آئین میں دیے جانے والے حقوق سے محروم رکھے جانے پرٹرانس جینڈرکو وفاقی محتسب ، نیشنل کمیشن فارسٹیس اور ویمن یا نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کو درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا ۔

وفاقی شرعی عدالت

وفاقی شرعی عدالت نے دو روز قبل ٹرانس جینڈرایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد خان، پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، صحافی اور سینیئرتجزیہ نگار اوریا مقبول جان، خواجہ سرا رہنما الماس بوبی، عائشہ گل کی جانب سے فریق بننے کی درخواستیں منظورکرتے ہوئے ان تمام کو اپنی گزارشات تحریری طورپرجمع کروانے کی ہدایت کی۔

ٹرانس جینڈرپرسنز(پروٹیکشن آف رائٹ) ایکٹ 25 ستمبر 2012 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بنایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ خواجہ سراؤں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی آئین نے ضمانت دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری،جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے اسلامی فقہی ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کی دائردرخواست کو نمٹاتے ہوئے دیا تھا۔ درخواست ہرمافروڈائٹ (hermaphrodite) بچوں کی آزادی سے متعلق تھی کہ وہ بھیک مانگنے، ناچنے اور جسم فروشی کے بجائے “باعزت طریقے” سے روزی کما سکتے ہیں۔

Read Comments