Aaj Logo

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2022 12:46pm

عمران خان نے فوجی افسران کیخلاف صدر کو خط لکھ دیا

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدرِمملکت ڈاکٹر عارف علوی کوخط کرخود پرحملے کے ذمہ داروں کے محاسبے کا مظالبہ کردیا۔

خط میں ملک میں آئین و قانون کے انحراف کی راہ روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرنے والے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت کو گرایا گیا ہے، قوم میری حقیقی آزادی کی پکار پر کھڑی ہوچکی ہے۔ ہمیں جھوٹے الزامات، حراسگی، بلاجواز گرفتاریوں حتیٰ کہ زیر حراست تشدد جیسے ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خط میں صدر کو بتایا کہ وزیر داخلہ بار بار مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِداخلہ رانا ثناءاللہ اور فوجی افسر کی جانب سے میرے قتل کا منصوبہ میرے علم میں لایا گیا۔ گزشتہ ہفتے ہمارے حقیقی آزادی مارچ کے دوران اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔

عمران خان نےلکھا کہ بطور سربراہِ ریاست اور دستور کے آرٹیکل 243(2) کے تحت افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر کے طور پر آپ سے قومی سلامتی سے جڑے ان معاملات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین کیلئے تحقیقات اور ان کے محاسبے کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بطور وزیراعظم میرے، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے مابین گفتگو میڈیا کو جاری کرکے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن سنجیدہ ترین سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی محفوظ گفتگو پر نقب لگانے کا ذمہ دار کون ہے جبکہ وزیراعظم کی محفوظ لائن پر یہ نقب قومی سلامتی پر اعلیٰ ترین سطح کا حملہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امریکا سے ہمارے سفیر نے حکومت تبدیل کرنے کی دھمکی پر مشتمل خفیہ مراسلہ بھجوایا، میری وزارتِ عظمیٰ کے دوران اس مراسلے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح فیصلہ کیا گیا کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول مداخلت ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے کے تحت دفترِ خارجہ نے امریکی سفیر کو احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) دینے کا فیصلہ کیا۔

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ شہبازشریف کے دورِ حکومت میں منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس اجلاس کی کارروائی/فیصلوں کی توثیق کی گئی، 27 اکتوبر کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے ڈی جیز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں کے فیصلوں سے یکسرمتضاد نکتۂ نظر اپنایا ۔

عمران خان کے مطابق سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو فوجی افسران کیونکر کھلے عام قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کو جھٹلا سکتے ہیں اور ان فوجی افسران کی جانب سے جان بوجھ کر غلط بیانیے کی تخلیق کی کوشش کا سنجیدہ ترین معاملہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس حوالے سے قابلِ غور اور جواب طلب دو اہم ترین سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اوّل یہ کہ پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کا سربراہ پریس کانفرنس سے مخاطب ہو کیسے سکتا ہے۔ دوسرا سوال عسکری افسران کیسے مکمل طور پر ایک سیاسی پریس کانفرنس میں وفاقِ پاکستان کی سب سے بڑی اور واحد سیاسی جماعت کے سربراہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عمران کان نے خط میں کہا کہ عسکری ادارے کے ترجمان آئی ایس پی آر کے حدودِ کار کو دفاعی و عسکری معاملات پر معلومات کے اجراء تک محدود کرنے کی ضرورت ہے اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر کے طور آپ سے التماس ہے کہ آپ آئی ایس پی آر کی حدودِ کار کے تعین کے عمل کا آغاز کریں۔

Read Comments