Aaj Logo

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2022 03:12pm

عمران خان پر حملے کی جے آئی ٹی میں پھر تبدیلی، ڈی پی او وہاڑی خارج

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حقیقی آزادی مارچ پر حملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں تبدیلی کی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ڈی آئی جی طارق رستم چوہان کنوینئر کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی کنوینئر کے عہدے پر مقرر کردیے گئے ہیں۔

جبکہ ڈی آئی جی طارق رستم چوہان جے آئی ٹی کے ممبر نامزد کیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی ظفر بزدار کو کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ چوہان اے آئی جی مانیٹرنگ ممبر کمیٹی نامزد جبکہ ملک طارق محبوب ایس پی پوٹھوہار بھی ممبر نامزد کیے گئے ہیں۔

جے آئی ٹی کسی ایک ممبر کو خود بھی ممبر نامزد کرسکے گی۔

اس سے قبل، پنجاب حکومت نے وزیرآباد میں پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ پر حملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

ڈی آئی جی طارق رستم چوہان کی سربراہی میں پانچ رکنی جے آئی ٹی واقعے کی تحقیقات کرے گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے سابق وزیراعظم عمران خان پرحملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ طارق رستم چوہان جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی، اے آئی جی احسان اللہ چوہان، ڈی پی او وہاڑی ظفر بزدار اور ایس پی سی ٹی ڈی نصیب اللہ جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

ممبران کے تقرر کے لئے صوبائی وزیر راجہ بشارت کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر کا اجلاس ہوا، جس میں مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ، چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ پنجاب کابینہ کمیٹی کے چیئرمین راجہ بشارت نے عمر سرفراز چیمہ اور چیف سیکرٹری سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کی منظوری دی۔

Read Comments