Aaj Logo

شائع 05 دسمبر 2022 12:36pm

کیا پی ڈی ایم نے جنرل باجوہ سے ڈبل گیم کی

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ پر ”ڈبل گیم“ کھیلنے کا الزام عائد کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ جنرل باجوہ آخروقت تک عمران خان کے حامی تھے اور انہوں نے ہی پرویز الہیٰ کو پنجاب میں عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے کہا تھا۔

پرویز الہیٰ کے تازہ ترین انٹرویو نے جنرل باجوہ کو ایک بار پھر تحریک انصاف کے حامی کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے حامی سابق آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایسے میں صحافی حامد میر نے ایک نیا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق ڈبل گیم جنرل باجوہ نے تحریک انصاف سے نہیں کی بلکہ پی ڈی ایم نے جنرل باجوہ سے ڈبل گیم کردی ہے۔

کراچی آرٹس کونسل میں عاصمہ شیرازی کی کتاب ”کہانی بڑے گھر کی“ کی تقریب رونمائی کے موقع پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ پی ڈی ایم رہنما جانتے تھے کہ ان کا ایک شخص ان کے اجلاسوں کی پوری تفصیلات جاکر ”بڑے گھر“ میں بتاآتا ہے۔ مارچ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے پہلے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس شخص کو وہ غلط معلومات دیں گے۔ وہ شخص یہ غلط معلومات درست سمجھ کرجنرل باجوہ کو بتاتا رہا۔ پی ڈی ایم رہنماؤں نے اپنے اجلاسوں میں یہی ظاہرکیا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبر پورے نہیں ہیں، یہی جنرل باجوہ تک پہنچی اور اسی بناء پرعمران خان کہتے رہے کہ تحریک عدم اعتماد لا کر دکھاؤ۔

حامد میرکا کہنا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد آئی تو سبھی حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے رہنما ”اندر ہی اندر کام کرتے رہے اور ایک دم سے 7 مارچ کو جب انہوں نے تحریک عدم اعتماد کا اعلان کیا تو اس بڑے گھر میں ماتم کی فضا تھی اور انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور جب تک پریس کانفرنس میں تحریک عدم اعتماد کا اعلان نہیں کیا گیا، انہیں یقین تھا کہ یہ پریس کانفرنس ہو ہی نہیں سکتی۔ جب پریس کانفرنس ہو گئی تو تب ان کو سمجھ آئی کہ اس ملک میں انتہائی اعتماد سے جھوٹ بولنا صرف ہمیں نہیں آتا کچھ اور لوگوں کو بھی آتا ہے۔“

اس انکشاف پر وسعت اللہ خان نے پوچھا ”اس میں زرداری صاحب تو نہیں تھے؟“ جواب میں حامد میر نے کہاکہ اس میں زرداری صاحب بھی تھے اور شہباز شریف صاحب بھی تھے۔

حامد میر کے بقول ان تک یہ معلومات اس لیے پہنچیں کہ جب ان کے ٹی وی پر آنے پر پابندی عائد کی گئی اور ان کا کالم بھی بند ہوگیا تو کچھ سیاستدان انہیں بے ضرر سمجھ کر ان کے سامنے کھل کر بات کرنے لگے۔

اس سے قبل حامد میر آج ٹی وی کے پروگرام ”روبرو“ میں کہہ چکے ہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کی حکومت بچانے کے لیے انفرادی طور پر کوششیں کی البتہ انہوں نے عمران خان کو بتا دیاتھا کہ فوج نیوٹرل ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان کئی مرتبہ شکوہ کر چکے ہیں کہ فوج نے ان کی حکومت بچانے کی کوشش نہیں کی۔

Read Comments