Aaj Logo

شائع 09 جنوری 2023 07:13pm

ماحولیاتی تباہی پر انصاف کا مطالبہ اپنی جگہ، سندھ اپنے گریباں میں بھی جھانکے

”وہ جو (ماحولیاتی انصاف) چاہتا ہے اسے خود بھی (ماحولیاتی انصاف) کرنا چاہیے“، قانون کی دنیا کا یہ محاورہ ذرا سی ترمیم کے ساتھ ہمیں پاکستان میں سیلاب اور موسم کی تباہ کاریوں کے بارے میں مؤقف اور مطالبے کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

سال 2022 میں بقول نازش بروہی ’مونسٹر‘ مون سون اور اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی نے پاکستان کو کوپ 27 میں سب سے آگے لاکھڑا کیا، جو مصر کے شہر شرم الشیخ میں 6 سے 20 نومبر تک منعقد کی گئی۔

کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کا 27 واں اجلاس تھا، جس میں موسمیاتی بحران پر مذاکرات ہوئے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں میں کم کردار ادا کرنے والے ممالک میں آب و ہوا سے پیدا ہونے والے واقعات کیسے طوفان، سیلاب اور زلزلوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ماحولیاتی انصاف (Climate Justice) کے مطالبے کا باعث بنا۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے COP27 میں پاکستان پویلین میں پینل کو بتایا کہ ”کمزور افراد کے لیے ماحولیاتی انصاف میں تاخیر انہیں موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے“۔

ماحولیاتی انصاف (Climate Justice) کیا ہے؟

کلائمیٹ جسٹس، انوائرمنٹل جسٹس کی تحریک کا ایک ذیلی ضمرہ ہے جو کمزور معاشروں پر موسمیاتی تبدیلی کے مختلف اثرات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے نمٹنے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دینے کے لئے کام کرتی ہے۔

’ماحولیاتی انصاف کی تحریک(Movement Environmental Justice) 1980کی دہائی کے اوائل میں امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں ابھری۔ جہاں ریاست کی جانب سے زہریلے مواد کی لینڈ فِل بنانے کے فیصلے نے احتجاج کی ایک لہر کو جنم دیا۔

وارن کاؤنٹی کے لوگوں کی جانب سے لینڈ فل کے خلاف سڑکوں پر ہونے والے احتجاج اور قانونی چیلنجز کو بہت سے لوگ ماحولیاتی انصاف کی تحریک میں پہلا بڑا سنگ میل سمجھتے ہیں۔

آسان الفاظ میں ماحولیاتی انصاف دھرتی ماں کے تقدس، ماحولیاتی اتحاد، تمام انواع کے باہمی انحصار اور ماحولیاتی تباہی سے آزاد ہونے کے حق کی توثیق کرتا ہے۔ 

اپنے گھر سے شروعات

عالمی سطح پر ماحولیاتی انصاف کیلئے وکالت کرنے سے پہلے ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے گھر (پاکستان) کے ساتھ یہ انصاف کر پارہے ہیں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں زیادہ دور نہیں صرف صوبہ سندھ کو ہی دیکھنا ہوگا جس کے حالات دوسرے صوبوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

سندھ مونسٹر مون سون سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں سے ایک تھا۔ پانچ ماہ بعد بھی اس کے کئی شہر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

لیکن اس کے بوجود سندھ میں ہو کیا رہا ہے، اس پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔

  • سندھ حکومت نے 4 جنوری کو تھرپارکر میں جنگلی حیات کی پناہ گاہ میں ہی جیپریلی نکالی۔
  • کراچی میں سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے انوائرمنٹ امپیکٹ اسسمنٹکی منظوری جمع کرانے اور حاصل کرنے کی لازمی شرط کو پورا کیے بغیرکھیتھر نیشنل پارک کے ایک حصے پر بحریہ ٹاؤن 2 کا پروجیکٹ شروع کردیا گیا۔
  • کراچی میں دریا کے کنارے ایک ایکسپریس وے بنایا جا رہا ہے۔
  • سندھ نے ماحولیاتی تحفظ کونسل قائم نہیں کی، صوبہ سندھ میں اس حوالے سےکوئی ادارہ قائم نہیں ہے۔
  • بہت سے منصوبوں کو عوامی جائزے سے دور کرنے کے لیے ماحولیاتی تشخیص کےنئے ضوابط بنائے جا رہے ہیں۔
  • تھر، ملیر، کاٹھور، نوری آباد، مجاہد کالونی اور دیگر علاقوں میں متبادلیا معاوضہ فراہم کیے بغیر غریب لوگوں کے مکانات مسمار کر دیے گئے۔

مونسٹر مون سون یا تباہ کن مون سون کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے منسوب کیا جا سکتا ہے، لیکن متعدد شہروں میں تاحال سیلابی پانی کی موجودگی کا تعلق سطحی نکاسی آب کے ڈیزائن اور انسانی انتظام سے ہے۔

یہ بیڈ گورننس اور منصوبوں کے لیے آبی گزرگاہوں پر تجاوزات، بشمول ماحولیاتی اثرات کی جانچ کیے بغیر بنائی گئی سڑکوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

سیلاب آیا تو ضلع دادو میں انڈس ہائی وے کے کئی حصوں کو کاٹنا پڑا یا توڑنا پڑا تاکہ سیلابی پانی کو نکالا جاسکے اور شہروں کو سیلاب سے بچایا جاسکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں دادو کا دورہ کیا تھا اور زیر آب شہروں کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔

تقریباً تمام پراجیکٹس، جن کے بارے میں اب کہا جارہا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی کے تحت تیار کئے گئے، انہوں نے مون سون کے خطرے کو تباہی میں تبدیل کر دیا، ان پروجیکٹس کا جائزہ سندھ کے ماحولیاتی تحفظ کے قانون کے تحت لیا جارہا ہے۔ تاہم، انہیں اس وقت یا تو تشخیص کے بغیر منظور کیا گیا تھا یا عوامی شرکت کے بغیر منظوری دی گئی تھی۔ سال 2022 کے مون سون سے ایک سال قبل، سندھ حکومت نے ماحولیاتی چیک اینڈ بیلنس کو کنٹرول کرنے والے ضوابط میں بڑی تبدیلیاں کیں۔

نتیجتاً کئی منصوبے عوامی جائزے سے پوشیدہ رہے اور ان ترامیم سے عوامی شرکت کی اب ضرورت نہیں رہی۔

مثال کے طور پر، ایک علاقے کے لوگوں کو سیلاب سے بچاؤ کے بند بنانے کے فیصلے میں حصہ لینا ہوتا تھا۔ لیکن نئے ضوابط کے تحت ان کی شمولیت کی اب ضرورت نہیں ہے۔

عوام کو اب 50 ایکڑ (2 لاکھ 40 ہزار مربع گز) سے کم رقبے پر تعمیر ہونے والی ہاؤسنگ اسکیموں پر اپنا مشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بغیر کسی جواز کے کئی منزلوں اور مربع فٹ پر بلند و بالا عمارت کے منصوبے کی کیٹیگری تبدیل کر سکتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ماحولیاتی نظام “سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل “ جیسے کسی نگران ادارے کے بغیر چل رہا ہے۔

صوبے کا قانون کہتا ہے کہ اس کیلئے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کونسل قائم کرنی ہوگی جس میں تمام بڑے محکموں کی نمائندگی ہونی چاہئیے۔

ان محکموں میں فنانس، آبپاشی، زراعت، لوکل گورنمنٹ، صنعت، تعلیم، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، صحت، جنگلات اور جنگلی حیات، توانائی کے سربراہ اور ڈویژنل کمشنر شامل ہیں۔

ان کے علاوہ 25 اراکین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، زراعت، صنعتی انجمنوں، طبی اور قانونی پیشہ ور افراد، ٹریڈ یونینز، ماحولیات اور پائیدار ترقی سے متعلق این جی اوز، سائنس دانوں، تکنیکی ماہرین اور ماہرین تعلیم پر مشتمل ہوں گے۔

قانون کے تحت کونسل کا اجلاس سال میں کم از کم دو بار ہونا ضروری ہے، جبکہ اس کونسل کا آخری اجلاس 2016 میں ہوا تھا۔

یہ وہ چند مثالیں ہیں جو آپ کو پاکستان میں مون سون کے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں سے ایک میں ماحولیاتی انصاف کا احساس دلائیں گی۔

عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف کا مطالبہ ایک کھوکھلا نعرہ ہوگا جب تک کہ ماحولیاتی انصاف اپنے گھر سے شروع نہ ہو۔

Read Comments