Aaj Logo

شائع 20 جنوری 2023 11:06am

تم ملازمت کرنا چاہتے ہو یا سیاست، لاہور ہائیکورٹ کا ڈائریکٹر ایف آئی اے سے سوال

بیرونِ ملک جانے سے روکنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ ڈائریکٹرایف آئی اے پر برہم ہوگئی ، عدالت نے پوچھا کہ تم ملازمت کرنا چاہتے ہویا الیکشن لڑنا چاہتے ہو۔

لاہور ہائیکورٹ مونس الہٰی کی اہلیہ تحریم الہٰی کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت ڈائریکٹر ایف آئی اے کے بجائے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کےدستخط سے رپورٹ پیش کرنے پرعدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر بھی کہاتھا کہ رپورٹ ایف آئی اے کا سربراہ جمع کرائے گا۔

عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی سے پوچھا کہ تم ملازمت کرنا چاہتے ہویا الیکشن لڑنا چاہتے ہو،واضح ہے کہ تمہارا مقصد سیاسی ہے،بتاؤ ذرا کتنے لوگوں کےنام ا سٹاپ لسٹ میں ڈالے ہیں،جس لسٹ میں نام ڈالا گیا وہ تو اشتہاریوں سے متعلق ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ای سی ایل پرنام ڈالنے کےلئے کتنے وزراء پر مشتمل کمیٹی بنی ہے؟اسٹاپ لسٹ پر نام خود ہی ڈالی جارہے ہو،ملک بھر کی اسٹاپ لسٹ پر ڈالے گئے نام طلب کریں گے ،اندازوں پر کسی کا نام اسٹاپ لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار کےخلاف تو کوئی مقدمہ نہیں نہ ہی انکوائری ہے، جس کے اکاؤنٹ سے پیسے آئے اس کےخلاف تو مقدمہ بھی خارج ہوچکا، واضح ہے کہ صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔درخواست گزارکے وکیل امجد پرویزنے کہا کہ لاہورہائیکورٹ کا جواب فائل کےساتھ لگا ہونے کے باوجود کہاجارہا ہے کہ جواب نہیں آیا جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کوعلم ہے کہ انہوں نے عدالت میں جھوٹ بولاہے، عدالت اس معاملے کو مثال بنائے گی، ایک سرکاری ملازم غلط کام بھی کرے اور آکرعدالت میں جھوٹ بولے یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت سے معافی مانگ لی جس کے بعد عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27جنوری تک ملتوی کردی۔

Read Comments