Aaj Logo

اپ ڈیٹ 11 فروری 2023 11:10pm

بلوچستان: کلاس فور کےعلاوہ تمام پوسٹیں پبلک سروس کمیشن کو منتقل کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے لئے نہ پیسے خرچ کئے ہیں، نہ کسی کو پیسے دیئے ہیں حکومتیں گرانے کا کام کسی اور کا تھا ہمیں صرف استعمال کیا گیا، مجھےنکال دیں تو اور بات ہے استعفا نہیں دوں گا۔

ہفتہ کی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ناکامیوں کا سہرا ہمیشہ سیاستدانوں کے سر باندھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات اور مشکلات سے کبھی نہیں گھبراتا میں استعفا نہیں دوں گا ، ملکی حالات دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم الیکشن میں جانے کی پوزیشن میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کلاس فور کےعلاوہ تمام پوسٹیں پبلک سروس کمیشن کو منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا۔

عبداقدوس بزنجو نے کہا کہ گریڈ 5 سے اوپرکی بھرتیاں پبلک سروس کمیشن سے ہوں گی، پبلک سروس کمیشن کے ممبران میرٹ پر تعینات ہوں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کو کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی نگرانی میں کنٹریکٹ پر ہونہار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے، بلوچستان کے لوکل لوگوں میں امیدوار نہ ملے تو پاکستان کے کسی بھی علاقے سے قابل اساتذہ کو یہاں لایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ماہ صحت کارڈ کا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں، صوبے میں لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ کوئی پارلیمانی جماعت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی تھی جو ہم نے کیا ہے۔

اس موقع پر ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ، وزیراعلیٰ کے کورآرڈینیٹر بابر یوسفزئی سمیت دیگر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ عوام کا حق لینا میری ذمہ داری ہے ایک سال بعد میڈیا کے سامنے اس لئے آیا ہوں تاکہ کھل کر اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کر سکوں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار دینے کے لئے کلاس فور یعنی 1سے 4گریڈ کے علاوہ تمام آسامیوں پر بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پبلک سروس کمیشن میں ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے گا جبکہ اس کا دائرہ کار ڈویژنل سطح تک پھیلایا جائےگا۔ جن آسامیوں کے اشتہار جاری ہوچکے ہیں اور جن پر انٹرویو ہوئے ہیں فیصلے کا اطلاق ان آسامیوں پر نہیں ہوگا۔

Read Comments