Aaj Logo

شائع 13 فروری 2023 10:40am

بغاوت کا قانون کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کیلئے دوسرے بینچ بھجوانے کی سفارش

لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے لئے دائر درخواست کو سماعت کے لئے دوسرے بینچ بھجوانے کی سفارش کردی، فائل چیف جسٹس کو ارسال کر دی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار شاہد رانا ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ بغاوت کا قانون انگریز دور کی نشانی ہے جو غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، ضابطہ فوجداری کی شق 124 اے، 153 اے اور 505بنیادی حقوق سے متصادم ہیں، بغاوت کے قانون کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرکے شہریوں کااستحصال کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزارنے مزید کہا کہ انڈین سپریم کورٹ نے بھی بغاوت کے قانون پر عمل درآمد روکتے ہوئے اسے انگریز دور کی پیداوار قرار دیتے ہوئے بغاوت کے مقدمے اور ٹرائل روک دئیے ہیں، آئین کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر کے انہیں ریاستی جبر کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا،عدالت انگریز دور کے بغاوت کے قانون کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے۔

جسٹس شجاعت علی خان نے قرار دیا کہ اسی نوعیت کی درخواست جسٹس شاہد کریم کےپاس زیرالتواء ہے، اس درخواست کو انہی کے پاس بھجوا دیتے ہیں۔

عدالت نے فائل مزید سماعت کے لئے چیف جسٹس کو واپس ارسال کردی۔

Read Comments