Aaj Logo

شائع 08 اگست 2023 11:16pm

بھارت میں ہندوؤں کی ’مہاپنچایت‘ میں مسلمانوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کا فیصلہ

ہندوتوا سوچ پورے بھارتی معاشرے میں زہر گھولنے لگی ہے۔ بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحقہ علاقے گروگرام میں 100 دیہات کے ہندوؤں کی ’مہا پنچایت‘ ہوئی جس میں مسلمانوں کے خلاف فیصلے کیے گئے۔

مہا پنچایت میں 1500 شدت پسند ہندوؤں نے شرکت کی۔ شدت پسندوں نے ’مہا پنچایت‘ میں مسلمانوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ کی اپیل کی۔

انتہا پسندوں کو بھارتی پولیس کی سپورٹ حاصل رہی اور علاقہ میں دفعہ 144 کے باوجود پنچایت کا انعقاد کیا گیا۔

میڈیا کے مطابق مہاپنچایت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پولیس نے نائب امام کے قتل کے کیس میں ان کے بچوں کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔

مہا پنچایت نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مسجد کے نائب امام کے قتل پر درج ہونے والی ایف آئی آر سے ہندو لڑکوں کا نام ہٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں ہریانہ فسادات کے بعد مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیے گئے

مہا پنچایت نے جو ہدایت نامہ جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں ان (مسلمانوں) کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے شناختی کارڈ دیکھیں اور اگر وہ مسلمان ہیں تو انھیں گھر یا اپنی دکان کرائے پر نہ دیں۔

مہا پنچایت نے مزید کہا کہ اپنے ہندوؤں کی دکانوں سے سامان خریدیں اور انہی کو اپنے گھریلو کام کاج میں تعاون کے لیے رکھیں، جبکہ گوشت کی دکانیں بھی ہندو ہی چلائیں۔

مہاپنچایت میں 100 دیہاتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک 101 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو ہریانہ پولیس کمشنر کو پنچایت کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

خیال رہے کہ ریاست ہریانہ میں گذشتہ ہفتے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس سے پورے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اِن فرقہ وارانہ فسادات میں دو ہوم گارڈز سمیت چھ لوگوں کی جان گئی تھی۔

Read Comments