اگر کسی وزیراعظم کو ہمارے ووٹوں کی ضرورت پڑی تو 3 ترامیم کی شرط رکھیں گے، خالد مقبول

اس مرتبہ کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص کے بغیر کوئی حکومت نہیں بنے گی، کنوینر ایم کیو ایم پاکستان
شائع 28 جنوری 2024 06:50pm

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اگر کسی وزیراعظم کو ہمارے ووٹوں کی ضرورت پڑی تو ہم اس مرتبہ وزارت کے بجائے آئین میں تین ترامیم کی مشروط شرط رکھیں گے۔

حیدرآباد میں معززین شہر کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں جبر کے سامنے قوم کا صبر جیت گیا ، اس مرتبہ کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص کے بغیر کوئی حکومت نہیں بنے گی۔

انھوں نے کہا کہ ملک کا آئین پاکستان کے عوام اور خود کو تحفظ دینے میں ناکام ہوا، ہم کامیاب ہوکر معاشرے کے کمزور طبقات کیلئے قانون سازی کرائیں گے۔ ہم حکومت پاکستان کیلئے نہیں بلکہ پاکستانیوں کی حکومت کیلئے جدوجہد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں کمزور طبقات کو تحفظ دینے کیلئے قانون سازی کی جاتی ہے لیکن جہاں کمزور معاشرہ ہو وہاں مافیا، خاندانوں کو تحفظ دینے کیلئے قانون بنتے ہیں۔

خالد مقبول نے مزید کہا کہ ہمارا آئین جاگیرداروں ، وڈیروں اور پیشہ ور سیاستدانوں کو تحفظ دیتا رہا ہے ہم انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد ہم آئینی طورپر اختیارات گلی و محلوں کو دلوانے کیلئے عملی اقدام کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن کو پراونشل کمیشن کے ساتھ مشروط کیا جائے اس کے علاوہ اختیارات نچلی سطح پر دے کر اختیارات ضلع کی منتخب قیادت کے حوالے کئے جائیں، وہ فیصلہ کریں کہ پانی کس طرح دیا جائے گا۔ ہم آئین میں اس طرح کی ترامیم کرائیں گے جب تک بلدیاتی انتخابات موجود نہ ہوں اس وقت تک عام انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ جس طرح قومی و صوبائی حکومتوں کے خاتمے کے بعد نگراں حکومت بنائی جاتی ہے اسی طرح بلدیاتی نمائندوں کی مدت پوری ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹرکے بجائے نگراں میئر بنائے جائیں۔

Read Comments