خیبرپختونخوا میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے 1762 واقعات
خیبرپختونخوا میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات سے متعلق پولیس کی تفصیلی رپورٹ آج نیوز کو موصول ہو گئی، جس کے مطابق مختلف واقعات، کارروائیوں اور حملوں کے نتیجے میں صورتحال تشویشناک رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں ایک سال کے دوران دہشت گردی کے 1762 واقعات درج ہوئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق بنوں میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ 430 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ شمالی وزیرستان میں 213 واقعات درج کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی آئی خان میں 173 اور جنوبی وزیرستان میں 111 واقعات سامنے آئے۔
پولیس دستاویز کے مطابق گزشتہ سال سکیورٹی اہلکاروں سمیت 502 شہری جاں بحق ہوئے۔ پشاور شہر میں 159 پولیس اہلکار شہید اور 272 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف کارروائیوں میں 395 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ صوبے میں 9 خودکش حملے بھی رپورٹ ہوئے۔
دہشت گردی کے ضمن میں صوبے کے 14 اضلاع میں فائرنگ کے 628 واقعات سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں سہولت کاری کے 151 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق 26 مقدمات بھی رجسٹر کیے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دہشت گردوں کی جانب سے 80 ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ 14 اضلاع میں بارودی مواد پھٹنے کے 179 واقعات درج ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے 71 دستی بم حملے کیے اور مختلف واقعات میں 88 افراد کو اغوا کیا گیا۔
دستاویز میں کہا گیا کہ رواں سال 34 میزائل اور راکٹ فائر کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بھتہ خوری کے 149 مقدمات درج کیے گئے اور تین افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔ دہشت گردی کے واقعات میں 117 ٹارگٹ کلنگ کے کیس بھی رپورٹ ہوئے۔
پولیس کے مطابق یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے دوران ہونے والے حملوں، کارروائیوں اور سکیورٹی چیلنجز کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں نے مستقبل میں سکیورٹی اقدامات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔