لاہور: نجی یونیورسٹی میں طالبہ کا اقدام خودکشی: ’کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا‘
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے اقدامِ خودکشی کے کیس میں پولیس کی ابتدائی تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔
پولیس کی رپورٹ میں کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں کلاس رومز اور بلڈنگز میں حفاظتی شیشے اور جالیاں لگانا شامل ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کو روکا جا سکے۔
پولیس نے اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھی بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مزید ضروری اقدامات پر غور کیا جا سکے۔
ریاض احمد کے مطابق، یونیورسٹی کے اندر اور باہر حفاظتی اقدامات میں تیزی لانے کے لیے انتظامیہ جلد عملی اقدامات کرے گی۔
واضح رہے کہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے جامعہ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی تھی جسے شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں کو شدید چوٹیں آئیں اور اس کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے۔
اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر فاروق افضل نے منگل کو میڈیا کو بتایا تھا کہ فاطمہ کو ساڑھے بارہ بجے اسپتال لایا گیا جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق طالبہ کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہے، لیکن اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں جن میں اس کی صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل کے مطابق فاطمہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور اس کا بلڈ پریشر اور نبض معمول پر لانے میں کامیابی حاصل ہو گئی، تاہم اس کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں ہیں جن کے لیے خصوصی طبی نگہداشت جاری ہے۔ میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ مکمل صحت یابی کے لیے مزید وقت اور نگرانی درکار ہوگی اور والدین کو ہر لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔