اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 12:54pm

لاہور میں بسنت: خطرے کے لحاظ سے شہر 3 حصوں میں تقسیم

لاہور میں بسنت کے ممکنہ انعقاد کے پیش نظر پولیس نے شہر کو ریڈ، یلو اور گرین زونز میں تقسیم کر کے جامع سیکیورٹی پلان عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

لاہور میں ممکنہ بسنت کے انعقاد کے حوالے سے پنجاب پولیس نے تفصیلی اور جامع سیکیورٹی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے جس میں شہر کو خطرات کے اعتبار سے تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ آج نیوز کو موصول ہوئی جس کے مطابق یہ منصوبہ گزشتہ دس برسوں کے حادثات، اموات اور زخمیوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

پولیس نے لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زون میں تقسیم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حساس اور گنجان آباد علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جہاں سخت ترین پابندیاں نافذ ہوں گی، جبکہ نسبتاً کم خطرناک علاقوں کو یلو اور محفوظ علاقوں کو گرین زون میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے گا اور صرف کاٹن ڈور اور رجسٹرڈ پتنگوں کو اڑانے کی اجازت ہوگی۔ شیشہ، کیمیکل اور میٹل ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔ ہر پتنگ اور ڈور کی باقاعدہ کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی مواد کی فروخت اور استعمال کو روکا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس میں ڈرون کیمروں، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور خصوصی کنٹرول رومز کے ذریعے شہر بھر پر نظر رکھی جائے گی۔ چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں کی حفاظت کے لیے موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمٹ اور سیفٹی وائرز لازمی قرار دی گئی ہیں جبکہ ریڈ زون میں بغیر حفاظتی اینٹینا موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ بسنت کے دنوں میں شہریوں کی سہولت کیلئے پانچ ہزار رکشے مفت چلانے کی تجویز بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو، محکمہ صحت اور ٹریفک پولیس کو مکمل الرٹ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے بسنت کی اجازت اور متعلقہ قانون کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس کے باعث حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی سے مشروط ہوگا۔

Read Comments