شائع 06 فروری 2026 09:52pm

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت سے متعلق اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت سے متعلق کل ہونے والی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔

جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ سانحہ اسلام آباد کے پیش نظر میں بسنت کے حوالے سے کل شیڈول تمام سرگرمیاں منسوخ کر رہی ہوں۔ انہوں نے لبرٹی اسکوائر پر بسنت میگا شو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

مریم نواز نے کہا کہ قومی سانحے پر یکجہتی کے اظہار کے لیے فیصلہ کیا گیا، قوم خوارجی فتنے اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف متحد رہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ خوارجی عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے، ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنا وقت کی ضرورت، پاکستان زندہ باد!۔

ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے کہا کہ پاکستانی قوم کو مایوسی یا نا امیدی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ وقت آ گیا ہے کہ آج ہی ایک واضح اور دوٹوک فیصلہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد ہوا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر ہو کر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف یک آواز ہونا ہوگا اور ملک سے امن و خوشحالی واپس حاصل کرنی ہوگی جو تشدد کے ذریعے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری صرف ریاستی اداروں ہی نہیں بلکہ پوری قوم پر عائد ہوتی ہے۔ مریم نواز نے قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس چیلنج کا مقابلہ کرے متحد رہے اور دشمن عناصر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا بیان

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے بھی ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بسنت پر کل ہونے والی تمام تقریبات منسوخ کردی ہیں، لبرٹی چوک پر ہونے والے شو کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے، شہدا کے لواحقین کے دکھ اور تکلیف میں پنجاب حکومت ساتھ کھڑی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہمارے دشمن کو یہ تکلیف تھی کہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے نہ آئے، پہلے بھی دہشت گردوں کو ڈٹ کا مقابلہ کیا تھا اب بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پہلے بھی ہمارا مورال بہت بلند تھا اور اب بھی بہت بلند ہے، ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے اور ہار ماننے والے نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور 160 سے زائد ہوگئے۔

پولیس کے مطابق نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی جس کے فوراً بعد دھماکا ہوگیا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، تمام اسپتالوں میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت ہوچکی ہے، خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔

حکومتی ذرائع نے بتایاکہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطےکی سلامتی کےلیےخطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں 6 فروری سے 8 فروری تک بسنت منانے کا اعلان کرتے ہوئے 7 فروری کو لبرٹی چوک لاہور میں مرکزی پروگرام کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے لاہور سمیت صوبے کے شہریوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ لاہور میں گزشتہ رات کو ہی بسنت کا جشن شروع ہوگیا تھا اور شہریوں نے پتنگ اڑانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

Read Comments