شائع 18 فروری 2026 01:08pm

کوہستان مالیاتی کے بعد ایبٹ آباد میں نیا اسکینڈل بے نقاب

کوہستان مالیاتی اسکینڈل کے بعد خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا ایک اور بڑا معاملہ سامنے آ گیا ہے، جہاں جعلی سی اینڈ ڈبلیو کمپنی کے نام پر جاری کیے گئے چیکوں کے ذریعے پانچ کروڑ روپے سے زائد کی رقم نکلوا لی گئی، جبکہ بروقت کارروائی کے باعث مزید تین کروڑ روپے کی ادائیگی روک دی گئی۔

ذرائع کے مطابق یہ جعلی چیک سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ ڈویژن کے نام پر جاری کیے گئے تھے۔ واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب تین مشکوک چیک متعلقہ افسران نے بروقت پکڑ لیے، جس کے باعث وہ کیش نہ ہو سکے۔ بتایا گیا ہے کہ جعلی چیک بک نمبر 01030 کے ذریعے سرکاری رقم نکلوانے کی کوشش کی گئی۔

محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ ڈویژن نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف انجینئر کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر اور متعلقہ بینکوں سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جعلی چیک اسکینڈل میں نجی بینک کے عملے اور اکاؤنٹ آفس کے بعض افراد کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔

واقعے کی رپورٹ تھانہ سٹی میں درج کروا دی گئی ہے اور پولیس نے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی معاملے کی سنگینی سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو باضابطہ طور پر صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

اُدھر عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس بڑے مالیاتی فراڈ کی شفاف تحقیقات کسی اعلیٰ ادارے کے ذریعے کروائی جائیں، جن میں نیب یا ایف آئی اے شامل ہوں، تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس مالیاتی اسکینڈل میں کون کون ملوث ہے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیل کیا ہے۔ فی الحال مختلف پہلوؤں سے انکوائری جاری ہے۔

Read Comments