82 ویں ایئربورن ڈویژن: کٹھن آپریشنز کے لیے مشہور امریکی فوج کی چھاتہ بردار فورس

امریکا نے ایران کے جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کی خبروں کے دوران اپنی خطرناک ترین فورس کو خطے میں تعینات کر دیا ہے۔
اپ ڈیٹ 27 مارچ 2026 12:00am

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خبروں کے درمیان امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی انتہائی تربیت یافتہ اور جنگی کارروائیوں کے لیے مشہور فورس کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ ’82ویں ایئر بورن ڈویژن‘ دنیا کی سب سے بڑی پیراشوٹ فورس کہلاتی ہے جو چند گھنٹوں کے نوٹس پر دنیا کے کسی بھی علاقے میں زمینی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو چار ہفتے گزر چکے ہیں۔ ایک جانب جنگ بندی اور مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششیں بھی تاحال بے نتیجہ ثابت ہورہی ہیں۔

امریکا نے اب مشرقِ وسطیٰ میں جن تازہ دستوں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اس میں امریکی فوج کی انتہائی تربیت یافتہ اور جنگی کارروائیوں کے لیے مشہور فورس ’82 ویں ایئربورن ڈویژن‘ بھی شامل ہے۔

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکا ایران کے جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کے لیے فوجیں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران پر مذاکرات کے لیے دباؤ اور آبنائے ہرمز کو کھلوایا جاسکے۔

امریکی فوج کی ’82 ویں ایئربورن ڈویژن‘ کی تعیناتی کی خبر اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ یہ فورس عام فوجی یونٹس سے بالکل مختلف اور منفرد ہے جسے مخصوص مشنز میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ محض ایک فوجی دستہ نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی پیراشوٹ فورس ہے جو رات کے اندھیرے میں فضا سے زمین پر اتر کر برق رفتاری سے فوجی مشنز انجام دینے اور جنگ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی فوج کی اعلیٰ ترین (ایلیٹ) انفنٹری یونٹ کہلانے والے اس ڈویژن کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی رفتار ہے۔ عسکری اصطلاح میں اسے امریکا کی ’گلوبل رسپانس فورس‘ کہا جاتا ہے۔

امریکی فوج کے قانون کے تحت اس ڈویژن کا ایک خصوصی دستہ 24 گھنٹے الرٹ رہتا ہے۔ امریکا کو جب بھی کسی علاقے پر قبضہ کرنا ہو یا کوئی ہنگامی صورت حال پیش آئے تو یہ فورس محض 18 گھنٹے کے نوٹس پر اپنے مکمل جنگی ساز و سامان کے ساتھ دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے۔ یہ تیز ترین صلاحیت دنیا کی کسی اور فوج کے پاس موجود نہیں ہے۔

اس فورس کی تاریخ دلچسپ فوجی مشنز سے بھری پڑی ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں شمولیت کے بعد جب امریکا کو اپنی فوجی قوت میں اضافے کی ضرورت پیش آئی تو ’82 ویں ڈویژن‘ تشکیل دی گئی، جس میں امریکا کی تمام ریاستوں سے سپاہیوں کو بھرتی کیا گیا۔ اسی لیے اسے ’آل امریکن‘ (All American) فورس کا لقب دیا گیا جو اس فورس کے سپاہیون اور افسران کے کاندھے پر ’ڈبل اے‘ (AA) کے بیج کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔

1942 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران اسے روایتی انفنٹری سے امریکا کی پہلی ’ایئربورن فورس‘ (فضائی دستے) میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کا مستقل ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے شہر ’فورٹ لبرٹی‘ میں واقع ہے، جسے پہلے فورٹ بریگ کہا جاتا تھا۔

82 ویں ایئر بورن ڈویژن 18 سے 20 ہزار انتہائی تربیت یافتہ پیراٹروپرز (پیراشوٹ فورس) پر مشتمل ایک مکمل اور خود مختار جنگی فوج ہے۔ اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں یہ لڑنے کے لیے کسی دوسری فورس کی مدد کی محتاج نہیں ہوتی۔

اس ڈویژن کے پاس اپنے لڑاکا فوجی، جاسوس اور جنگی انجینئرز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بلیک ہاک اور چِنوک (CH-47) ہیلی کاپٹرز کا ایک مکمل ایوی ایشن بریگیڈ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جو فوجیوں کو میدانِ جنگ میں تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام کرتا ہے۔

چوں کہ 82 ویں ایئربورن ڈویژن کو پیراشوٹ کے ذریعے دشمن کے زیرِ قبضہ یا متنازع علاقوں میں اترنا ہوتا ہے لہذا ہتھیاروں کے لحاظ سے ان کی حکمتِ عملی مختلف ہوتی ہے۔

اس لیے جہاز سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگاتے ہوئے یہ یہ بھاری ہتھیاروں کے بجائے ہلکے مگر انتہائی تباہ کن اسلحے سے لیس ہوتے ہیں۔

ان فوجیوں کے پاس ایم فور (M4)، کاربائنز اور ٹینکوں کو تباہ کرنے والے ’جیولن‘ (Javelin) میزائل ہوتے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے 105 ملی میٹر کی ہلکی توپیں بھی استعمال کی جاتی ہیں، جنہیں مال بردار طیاروں سے پیراشوٹ کے ذریعے براہِ راست میدانِ جنگ میں گرایا جاتا ہے۔

یہ فورس زمین پر اترنے کے بعد تیزی سے دشمن کے اہم ترین مقامات جیسے کہ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور پلوں پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ اس اچانک حملے کا مقصد اہم اہداف کو محفوظ بنانا ہوتا ہے تاکہ ان کے پیچھے آنے والے بھاری ٹینکوں اور دیگر فوجی دستوں کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

جنگی کارروائیوں کے علاوہ یہ فورس امریکی سفارت خانوں کی حفاظت، جنگ زدہ علاقوں سے امریکی شہریوں کے محفوظ انخلاء اور قدرتی آفات میں امدادی کاموں کے لیے بھی امریکا کا پہلا انتخاب ہوتی ہے۔

امریکا دوسری جنگ عظیم سے لے کر اب تک اپنے مشکل ترین فوجی مشنز میں اس پیراشوٹ فورس کا استعمال کر چکا ہے۔

آپریشن اوور لورڈ (ڈی ڈے)

جون 1944 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکا نے اس فورس کے ذریعے تاریخ کا سب سے بڑا اور کٹھن فضائی آپریشن انجام دیا۔ اس مشن کا مقصد سمندر کے راستے آنے والے اتحادی فوجی دستوں کے لیے راستہ صاف کرنا تھا۔

اس مشن میں ہزاروں پیراٹروپرز رات کے اندھیرے میں فرانس کے علاقے ’سینٹ میری ایگلیس‘ میں اترے۔ انہوں نے اہم پلوں سے نازی فوج کا قبضہ ختم کیا اور جرمن سپلائی لائن کاٹ دی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے جنگ کا نقشہ بدلا اور جرمنی کی شکست کی بنیاد پڑی۔

آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم

اگست 1990 میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا اور سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہوا تو یہی وہ پہلی امریکی فوجی یونٹ تھی جوامریکی صدر کے حکم پر چند ہی گھنٹوں میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے پہنچ گئی۔

جس کے بعد باقاعدہ جنگ شروع ہونے پر اس فورس نے محض چند گھنٹوں میں نہ صرف عراقی فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا بلکہ ہزاروں فوجیوں کو قیدی بنا لیا۔

کابل کا تاریخی انخلاء

افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تاریخ کے سب سے بڑے اور مشکل ترین فضائی انخلاء کو ممکن بنانے کے لیے بھی اسی ڈویژن کو بھیجا گیا تھا۔ انہیں ہزاروں شہریوں کے درمیان ایئرپورٹ پر سیکیورٹی فراہم کرنی تھی۔

82ویں ایئربورن ڈویژن نے نہ صرف امریکی فوج کا محفوظ انخلا ممکن بنایا بلکہ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ افغانستان سے نکلنے والا آخری امریکی فوجی اسی ڈویژن کا کمانڈر میجر جنرل کرس ڈوناہو تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں اس فورس کی تازہ ترین تعیناتی نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا امریکا واقعی ایران کے اندر کسی زمینی کارروائی یا دراندازی کی تیاری کر رہا ہے۔

اس سے پہلے بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے اہم ترین اسٹریٹجک جزیرے ’خارگ‘ پر قبضے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ تہران پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکے۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا بھی فوجی ذرائع کے حوالے سے یہ واضح کرچکا ہے کہ ایرانی سرزمین یا جزائر پر قبضے کی کوشش کی گئی تو ایران ’آبنائے باب المندب‘ کوبھی بند کردے گا۔

Read Comments