وائرل آپریشن ویڈیو تنازع: پنجاب کے تمام ڈاکٹرز کی مستعفی ہونے کی دھمکی
لاہور کے لیڈی ولینگڈن اسپتال میں آپریشن کے دوران بنائی گئی ویڈیو کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ صوبے کے ینگ ڈاکٹرز نے ویڈیو بنانے والے ڈاکٹرز کی معطلی اور مبینہ طور پر زبردستی بیانات لینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاجاً پنجاب بھر سے استعفے دینے کی دھمکی دی ہے۔
لاہور کے معروف لیڈی ولینگڈن اسپتال میں ایک آپریشن کے دوران بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صوبائی حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے آٹھ ڈاکٹروں کو معطل کر دیا تھا۔
جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے رہنماؤں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اس کارروائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور اجتماعی استعفوں کی دھمکی دے دی ہے۔
وائی ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ویڈیو نو ماہ پرانی ہے اور اس کی بنیاد پر ڈاکٹروں کا مستقبل داؤ پر لگانا ناانصافی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو سے کسی مریض کی رازداری متاثر نہیں ہوئی اور جونیئر ڈاکٹروں سے اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے معاف کیا جانا چاہیے نہ کہ ان کا کیریئر برباد کیا جائے۔
ڈاکٹر احمد گجر اور ڈاکٹر شعیب نیازی سمیت دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران محکمہ صحت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں بنیادی سہولیات، ادویات اور انستھیزیا کی شدید کمی ہے لیکن حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف انکوائری کسی سینئر پروفیسر یا وائس چانسلر کی موجودگی میں کی جائے اور سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر یکطرفہ فیصلے نہ کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معطل ڈاکٹروں کو بحال نہ کیا گیا تو تمام ڈاکٹرز اپنے عہدوں سے استعفا دے دیں گے۔
پنجاب کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ عید کی چھٹیوں میں بھی دن رات کام کرتے ہیں جبکہ دیگر شعبوں میں گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کی سہولت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کو وہ عزت اور مراعات نہیں دی جاتیں جن کے وہ حقدار ہیں۔
ڈاکٹر مدثر اشرفی نے اعلان کیا ہے کہ وائی ڈی اے کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مریضوں کا درد ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ نجی علاج کی استطاعت نہیں رکھتے، لیکن ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر اب خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
