معیشت کا منظرنامہ

موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پالیسی اپنانا ہوگی۔
شائع 01 اپريل 2026 01:18pm

سال 2025-26 میں اب تک معیشت نے 2024-25 کے مقابلے میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلا اشاریہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو ہے، جو 2024-25 میں 3.1 فیصد تھی، جبکہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔

پلاننگ کمیشن اور بین الاقوامی اداروں کی پیش گوئی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی شرحِ نمو تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اندازہ خاص طور پر صنعتی شعبے کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 9.4 فیصد تک رہی۔ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق اس شعبے نے مالی سال کے پہلے سات ماہ میں تقریباً 6 فیصد نمو حاصل کی ہے۔

معیشت میں مجموعی شرحِ نمو کا ایک نمائندہ اشاریہ پی او ایل مصنوعات کی وسیع بنیادوں پر کھپت میں اضافہ ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی ( او سی اے سی ) کے مطابق 2025-26 کے پہلے سات ماہ میں اس میں 7.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

مجموعی سرمایہ کاری کی سطح بھی گزشتہ تین برسوں کی سست روی کے بعد بحالی کے آثار دکھا رہی ہے۔ اس کی نشاندہی تین اشاریے کرتے ہیں۔ اول، 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں نجی شعبے کو بینکوں کے قرضوں میں 85 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دوم، پہلے سات ماہ میں مشینری کی درآمدات میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات 2025-26 کے پہلے نصف میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئے ہیں۔

مہنگائی کی شرح 2024-25 میں کم ہو کر 4.5 فیصد رہ گئی تھی۔ خوش آئند طور پر 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں بھی یہ سنگل ڈیجٹ سطح پر برقرار رہی ہے۔ تاہم مہنگائی میں کچھ تیزی کے آثار بھی ہیں، جو جولائی 2025 میں 4.1 فیصد سے بڑھ کر فروری 2026 میں 7 فیصد تک پہنچ گئی، اگرچہ یہ اب بھی سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح اب تک 2025-26 میں 7.1 فیصد رہی ہے۔

2025-26 کے پہلے نصف میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ میں 541 ارب روپے کا سرپلس رہا ہے۔ یہ بڑی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2428 ارب روپے منافع کی خطیر منتقلی کے باعث ممکن ہوا۔ تاہم تشویش کا پہلو ایف بی آر کی آمدنی میں سست رفتار اضافہ ہے، جو 9.5 فیصد رہا، جبکہ ہدف 18.7 فیصد تھا۔

جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ادائیگیوں کا توازن قابلِ انتظام رہا ہے۔ جاری کھاتے میں صرف 70 کروڑ ڈالر کا معمولی خسارہ رہا، جبکہ پورے مالی سال 2025-26 کے لیے 2 ارب ڈالر کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ فروری میں تو سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔

مالی کھاتے میں سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 1,220 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی خالص آمد کے ساتھ مل کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16,438 ملین ڈالر کی نسبتاً بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں، جو 2.8 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

اس طرح پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث کسی منفی جھٹکے سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ مزید یہ کہ ملک کے پاس 2027 کے اختتام تک 7.2 ارب ڈالر کے قرض پر مشتمل جاری آئی ایم ایف پروگرام کی سہولت بھی موجود ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔

اب ہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کے باعث اوپر بیان کردہ مثبت رجحانات میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس حوالے سے مختلف منظرنامے ہیں۔ سب سے منفی منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ یوکرین-روس جنگ کی طرح جاری رہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود رہے۔ ایک نسبتاً مثبت منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوں، جو بالآخر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے جزوی کھلنے کا باعث بنیں۔

منفی منظرنامے میں 2025-26 کی آخری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں معاشی اشاریوں کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑے گا۔ وہ شعبے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں ایندھن کا استعمال زیادہ ہے۔ ان شعبوں کی نشاندہی پاکستان بیورو آف شماریات کی تیار کردہ سیکٹر ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل سے کی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ کا استعمال فصلوں کی پیداوار، خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعت، ہول سیل و ریٹیل تجارت، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن و دفاع جیسے شعبوں میں نسبتاً زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ انحصار تعلیم کے شعبے میں ہے، جہاں یہ مجموعی قومی ان پٹ کا 36 فیصد ہے۔ دیگر شعبوں میں خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں بالترتیب 14 اور 10 فیصد کے ساتھ نمایاں ہیں۔

درآمدی ایل این جی تک محدود رسائی سے کھاد، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور توانائی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ٹیکسٹائل صنعت میں یونٹس اپنی بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح خام تیل کی محدود دستیابی ملک میں پی او ایل پلانٹس کی پیداوار کو بھی کم کرے گی۔

ان شعبوں کی نشاندہی کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ اگر ایندھن کی دستیابی میں 10 فیصد کمی ہو تو جی ڈی پی کو تقریباً 2 فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ اس منظرنامے میں 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی اور اس کے بعد کے ادوار میں شرحِ نمو میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔

مہنگائی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کے ساتھ تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا، جو برینٹ کروڈ کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل ہونے سے منسلک تھا، جبکہ اس سے قبل یہ 64 ڈالر تھی۔

خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر اس وقت 112 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، اور اندازہ ہے کہ اگر عالمی قلت برقرار رہی تو یہ 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے فی لیٹر قیمت میں مزید 100 روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے۔

پی او ایل قیمتوں میں اضافے کے دہرے اثرات ہیں۔ ایک براہِ راست گھریلو اخراجات پر اور دوسرا اشیا، خصوصاً خوراک، کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے کے ذریعے۔ سی پی آئی میں ٹرانسپورٹ کا وزن 5.9 فیصد ہے، اس لیے 55 روپے فی لیٹر اضافے نے براہِ راست مہنگائی میں تقریباً 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔

وسیع تر اثر اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ سی پی آئی میں تقریباً 4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پرمہنگائی میں تقریباً 5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنگ سے قبل یہ شرح 7 فیصد تھی، لہٰذا پاکستان کو دوبارہ دہرے ہندسے کی مہنگائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ادائیگیوں کے توازن پر اثرات میں درآمدی بل میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ سے ترسیلات زر میں کمی اور برآمدات میں ممکنہ کمی شامل ہیں، جو مسابقت میں کمی پر منحصر ہوگی۔

برینٹ کروڈ کی موجودہ قیمت 112 ڈالر فی بیرل کے حساب سے اندازہ ہے کہ ماہانہ ایندھن کی درآمدی لاگت میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل اور ایل این جی شامل ہیں۔

ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں کی عالمی ترسیلات زر کا تقریباً 55 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جس میں سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں اب بھی بڑی حد تک ایک ہی مصنوعات، یعنی تیل، پر انحصار کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کی برآمدات کا 80 فیصد تیل پر مشتمل ہے اور برآمدات جی ڈی پی کا 20 فیصد ہیں۔

لہٰذا اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی برآمدات میں 10 فیصد کمی ہو تو سعودی عرب کی جی ڈی پی میں تقریباً 2 فیصد، یعنی 25 ارب ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی سست روی روزگار کے مواقع کو متاثر کر سکتی ہے اور پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی صورتحال دیگر ممالک میں بھی ہو سکتی ہے۔

ایک کم زیرِ بحث آنے والا منفی اثر برآمدات پر بھی ہے۔ ممالک کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پی او ایل قیمتوں میں اضافے سے، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث، ان کی برآمدی مسابقت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ان ممالک میں پی او ایل کی موجودہ قیمتوں کا جائزہ لیا جائے جو پاکستان کے ساتھ بالخصوص ٹیکسٹائل برآمدات میں مسابقت رکھتے ہیں۔ منتخب ممالک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمتیں جدول نمبر 1 میں دی گئی ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر 31 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Read Comments