امریکا کے نائب صدر ایران سے مذاکرات کے لیے ’اسٹینڈ بائی‘ پر موجود

وینس کی ممکنہ شمولیت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اپ ڈیٹ 07 اپريل 2026 07:37pm

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے جاری مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے اسٹینڈ بائی پر موجود ہیں، اگر ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات ضروری ہوئی تو وینس کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اخبار ’پولیٹیکو‘ کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس وقت مذاکرات کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیئرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق اگر ان دونوں کی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی تو وینس کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران کو اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے کیا شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

وینس کی ممکنہ شمولیت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مقررہ وقت تک مطالبات تسلیم نہ کیے تو ایک تہذیب کو مٹا دیا جائے گا اور وہ ایسا نہیں چاہتے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی امریکہ نے منگل کو ایران کے جزیرہ خارگ پر فضائی کارروائی کی ہے۔

جے ڈی وینس اس وقت یورپی ملک ہنگری کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خارگ جزیرے پر کیے گئے حملے حکمتِ عملی میں کسی تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتے۔

ان کے بقول، ”ہم خارگ جزیرے پر کچھ فوجی اہداف کو نشانہ بنانے والے تھے، اور میرا خیال ہے کہ ہم نے ایسا کر دیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ہم توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنائیں گے جب تک ایرانی یا تو کوئی ایسی تجویز پیش نہ کریں جس کی ہم حمایت کر سکیں، یا کوئی تجویز پیش نہ کریں۔

جے ڈی وینس کے بقول، ”میرا نہیں خیال کہ خارگ جزیرے سے متعلق خبریں حکمتِ عملی میں کسی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں یا یہ امریکی صدر کی پالیسی میں کسی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔“

پولیٹیکو کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر وینس زیادہ تر پسِ پردہ رہ کر کام کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اتوار کی رات انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ بھی کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی جے ڈی وینس اور عاصم منیر کے درمیان رابطے کی خبر دی تھی۔

پاکستان نے اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے اور وہ ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور نائب صدر وینس بھی اس عمل میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک مخصوص وقت کی مہلت دینے کا ذکر بھی کیا۔

صدر ٹرمپ نے ایک تقریب کے دوران مذاقاً نائب صدر سے کہا کہ وہ ایک بڑے معاہدے پر کام کر رہے ہیں، اور اگر یہ معاہدہ نہ ہوا تو وہ اس کا الزام وینس پر ڈال دیں گے۔

ممکنہ امن معاہدے میں وینس کا کردار ان کے اس مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے جس میں وہ طویل جنگوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ابتدائی دنوں میں جے ڈی وینس دیگر حکام کے مقابلے میں میڈیا میں کم نظر آئے اور سوشل میڈیا پر بھی حملوں کی حمایت کا بیان کچھ تاخیر سے دیا۔

وائٹ ہاؤس حکام نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ وینس ابتدائی مرحلے میں غیر فعال تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کی ٹیم مسلسل رابطے میں رہی اور تمام فیصلے صدر کے بیانات کے مطابق کیے گئے۔

بعد ازاں وینس نے عوامی تقاریب میں شرکت کی اور میڈیا سے گفتگو بھی کی، جن میں فاکس نیوزکو دیا گیا ایک اہم انٹرویو بھی شامل ہے۔

Read Comments