ایران کے 100 ارب ڈالرز: امریکی پابندیوں کا شکار یہ اثاثے کہاں کہاں موجود ہیں؟

ایران امریکی پابندیوں کے باعث 47 سال سے دنیا بھر میں موجود اپنے اربوں ڈالرز سے محروم ہے، حالیہ مذاکرات میں ان اثاثوں کی بحالی ایران کا اہم ترین مطالبہ ہے۔
اپ ڈیٹ 15 اپريل 2026 11:37pm

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات میں فریقین کے درمیان ایران کے دنیا بھر میں موجود اثاثے ’ڈی فریز‘ کرنے پر بھی اختلاف رہا، جو تہران کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ رواں سال دونوں ملک عسکری محاذ پر آمنے سامنے آئے ہیں، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاشی جنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

حالیہ مذاکرات میں امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو سب سے اہم مسئلہ قرار دے رہا ہے جب کہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ اس کے منجمد اثاثے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے نزدیک ان اثاثوں کی بحالی کوئی ’اضافی رعایت‘ نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً ایران کا حق ہے۔

اسماعیل بقائی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسلام آباد مذاکرات میں ؛سینٹرل بینک آف ایران‘ کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے تھے۔

امریکا-ایران مذاکرات سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ میز پر بیٹھنے کے لیے ایران کے غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ واشنگٹن نے ابتدائی طور پر قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم امریکا نے اس کی تردید کی اور مذاکرات میں فریقین کے درمیان اس نکتے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

جب کسی شخص، کمپنی یا ملک کے مرکزی بینک کے فنڈز، جائیداد، یا سیکیورٹیز کو کسی دوسرے ملک کی حکومت یا عالمی ادارے کی جانب سے عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے، تو اسے ’اثاثے منجمد کرنا‘ کہتے ہیں۔ پابندیوں، عدالتی احکامات یا دیگر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کا اصل مالک انہیں فروخت کرنے یا استعمال کرنے کا اختیار کھو دیتا ہے۔

ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت کیا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار نہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ درست اعداد و شمار بتانا مشکل ہے، لیکن ایرانی میڈیا کی رپورٹس اور عالمی ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی کل مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

ان اثاثوں میں سب سے بڑی رقم تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن ہے جو ایران کی ملکیت ہے لیکن امریکی پابندیوں کے باعث اسے ایران منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی کُل مالیت 100 ارب ڈالر سے 120 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ اثاثے 47 سال سے مختلف ممالک میں نقد رقم، رئیل اسٹیٹ اور جائیدادوں کی صورت میں موجود ہیں۔

ایران کے اثاثے پہلی بار نومبر 1979 میں منجمد کیے گئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد 4 نومبر کی صبح ایرانی طلبہ کے ایک گروہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس گروہ کا مطالبہ تھا کہ امریکا ایران کے مفرور بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو ایران کے حوالے کرے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے اسی واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی بینکوں میں موجود ایران کے تقریباً 8 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔

دو سال بعد ’الجزائر معاہدے‘ کے تحت ایران کو صرف 3.6 ارب ڈالر واپس مل سکے، جب کہ باقی رقم امریکی کمپنیوں کے دعوؤں کی مد میں روک لی گئی۔ امریکا نے ایران کی صورت حال اور حکومت کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے نہ صرف ایران کے اثاثے منجمد کیے بلکہ بین الاقوامی بینکوں اور تجارتی کمپنیوں کو بھی ایران سے تعلقات توڑنے پر مجبور کیا تھا۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے منجمد اثاثوں کا حجم تیزی سے بڑھتا گیا۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی مالیت اب 100 سے 120 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ یہ رقوم مختلف ممالک کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں موجود ہیں، تاہم امریکی پابندیوں اور قانونی رکاوٹوں کے باعث ایران ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔

سال 2015 میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے دوران ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک محدود رسائی ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ اُس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے ایک انٹرویو میں پہلے ایران کے منجمد اثاثوں کا تخمینہ تقریباً 100 ارب ڈالر بتایا تھا، تاہم بعد میں وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور ان اثاثوں کو 50 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان قرار دیا تھا۔

جولائی 2015 میں اوباما حکومت میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران کو اپنے 50 سے 60 ارب ڈالر کے اثاثوں تک عارضی رسائی ملی، تاہم یہ ریلیف دیرپا ثابت نہیں ہوسکا تھا۔

مئی 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرکے مزید پابندیاں عائد کردیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر کرنے کی کوشش کی گئی اور جو اثاثے بحال ہوئے تھے انہیں دوبارہ منجمد کر دیا گیا۔

امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران نے حیران کُن حکمت عملی اپنائی اور بین الاقوامی بینکاری نظام پر پابندی سے بچنے کے لیے ’کرپٹو کرنسی‘ کا استعمال شروع کردیا۔ ایران نے کرپٹو کرنسی کی مائننگ شروع کی جس سے وہ امریکی نگرانی کے بغیر سالانہ کروڑوں ڈالر کی بین الاقوامی تجارت کے قابل ہو گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اِس وقت امریکا، چین، عراق اور جاپان سمیت کئی ممالک میں ایران کے منجمد شدہ اثاثے موجود ہیں۔ ایران کے تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے صرف امریکا میں منجمد ہیں، جب کہ مزید 50 ملین ڈالر کے لگ بھگ رقم امریکی رئیل اسٹیٹ اور اس سے حاصل ہونے والے کرائے کی مد میں واجب الادا ہے۔

چین میں ایران کے تیل کی آمدنی کے تقریباً 22 سے 30 ارب ڈالر ’ایسکرو اکاؤنٹس‘ میں موجود ہیں جب کہ جنوبی کوریا سے قطر منتقل ہونے والے 6 ارب ڈالر بھی رکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان، بھارت اور یورپی ممالک میں بھی ایران کے مرکزی بینک کے ذخائر، تیل سے حاصل ہونے والی آمدن اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے حاصل شدہ رقم منجمد ہے۔

امریکا نے ستمبر 2023 میں ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت قطر میں موجود تقریباً 7 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی دی لیکن شرط یہ تھی کہ یہ رقم صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استعمال ہوگی۔ اکتوبر 2024 میں امریکا کے دباؤ پر قطر نے ان اثاثوں تک ایران کی رسائی دوبارہ روک دی تھی۔

امریکا نے عراق کو بھی ایران کے 2.7 ارب ڈالرز کی ادائیگی کی اجازت دی تھی لیکن یہ رقم عمان کے بینکوں میں منتقل کی گئی جسے امریکی نگرانی میں خوراک اور ادویات کے لیے استعمال سے مشروط کیا گیا۔

اسی طرح برطانیہ کی جانب سے 40 سال بعد ایران کو ٹینکوں کی خریداری کے عوض ادا کیے گئے 530 ملین ڈالرز بھی عمان میں منجمد کر دیے گئے۔ ایران کے بھارت میں 7 ارب ڈالرز، لکسمبرگ 1.7 ارب ڈالرز موجود ہیں جن پر امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے جب کہ جاپان میں بھی اس کے 1.5 ڈالرز پابندیوں کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ یورپی یونین نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یوکرین جنگ میں روس کو ڈرونز فراہم کرنے کے الزامات پر ایران کے مرکزی بینک کے اثاثے جزوی طور پر منجمد کر رکھے ہیں۔

اپریل 2026 میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو بند کر کے دنیا کی 20 فیصد تیل کی ترسیل روک رکھی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران کو اس وقت ان منجمد شدہ اربوں ڈالرز تک رسائی مل جائے تو نہ صرف معیشت کو فوری سہارا مل سکتا ہے بلکہ ملک میں جاری مالی اور سماجی دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی سیاست کی ماہر روژین فارمنفرمائیان نے الجزیرہ سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان اثاثوں کی بحالی سے ایران جنگ میں تباہ ہونے والے ملک کے اہم شعبوں کی بحالی شروع کرسکتا ہے جس کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔ منجمد اثاثوں کی دستیابی سے ایران نہ صرف غیر ملکی کمپنیوں کو ادائیگیاں کر سکے گا بلکہ معاشی مسائل پر قابو اور اپنے صنعتی شعبے کو بھی بحال کر سکے گا۔

اسلام آباد میں ہونے والے 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں بھی ایران نے بیرونِ ملک تمام منجمد اثاثوں کی فوری بحالی کا مطالبہ رکھا تھا۔ ایران نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکا اعتماد سازی کے لیے فوری طور پر ایران کے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے بحال کرے۔

ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان مذاکرات میں دنوں ملکوں کے اقتصادی، قانونی اور مالیاتی ماہرین پر مشتمل کمیٹیوں بھی شریک ہوئے تھے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ امریکا جو پہلے ان منجمد اثاثوں کو صرف جوہری معاہدے کے ساتھ جوڑتا تھا، اب اسے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرط کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے وفود کی وطن واپسی کے فوراً بعد پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیش کش کی تھی اور اس حوالے سے کوششیں اب آخری مراحل میں ہیں۔ پہلا دور بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ دوسرے دور میں معاملات کے تکنیکی میکانزم پر متفقہ لائحہ طے کیا جائے گا۔

Read Comments