زرمبادلہ ذخائر سنبھالنے کو مملکت میدان میں
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رواں ماہ 3.45 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے قرض کی واپسی ہے، 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر کے رول اوورز (جو 2019 سے ہر سال تجدید ہوتے رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی مدت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے)، اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر۔
گزشتہ بدھ کو یہ اعلان کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران مملکت نے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، یقیناً معاشی منتظمین، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد (جو اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے)، کے لیے خوش آئند ریلیف ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز (2031 اور 2036 میں میچور ہونے والے) کی قیمت میں 0.8 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ادائیگی کی مدت اور عائد کردہ شرحِ سود کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں (13 سے 18 اپریل) کے دوران اورنگزیب نے عندیہ دیا کہ حکومت تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز/یورو بانڈز یا ممکنہ طور پر سکوک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان بانڈز (کمرشل قرض) پر منافع کا انحصار (الف) تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی درجہ بندی پر ہے، جو حالیہ بہتری کے باوجود اب بھی نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس پر عموماً دوطرفہ یا کثیرالجہتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ منافع دینا ہوگا؛ اور (ب) معیشت کی مجموعی صورتحال پر بھی ہے۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زرمبادلہ ذخائر تقریباً مکمل طور پر بیرونی قرض پر مشتمل ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت پیشگی شرائط پر بدستور سختی سے عمل کرنا ہوگا، جو معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں اور غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی ٹیم کے یہ دونوں قائدین مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات کو بنیاد بنا کر ان شرائط میں نرمی یا ان کی مرحلہ وار ترتیبِ نو (ری فیزنگ) پر کامیاب مذاکرات کر سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق 27 مارچ 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 38 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مجموعی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے—یہ ایک بڑی رقم ہے، جس کی واپسی اگر سعودی عرب کی یقین دہانی کے بغیر ہوتی تو نہ صرف ضروری درآمدات (ایندھن اور خوراک، جن کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں) کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوتی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے نسبتاً مستحکم روپے، ڈالر برابری بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔
اس کے نتیجے میں بجٹ میں مختص مارک اپ اخراجات میں اضافہ ہوتا، جو پہلے ہی اوپر کی جانب نظرثانی کے مراحل میں ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے (آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے)، اور یوں 27 اپریل 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر شدید دباؤ پڑتا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے مزید بڑھایا جائے۔
بھارتی میڈیا یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں سابقہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی خرابی سے جوڑ رہا ہے، تاہم ایک نامعلوم سینئر پاکستانی عہدیدار، جس کے عہدے اور متعلقہ وزارت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ یہ واپسی قومی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔
دوسری جانب وزارتِ خارجہ کی جانب سے 4 اپریل کو یو اے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کو جاری کردہ بیان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ ”گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں“ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا ہے۔
یہ ڈپازٹس دوطرفہ کمرشل معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حمایت کا مظہر ہیں۔ چنانچہ باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے، اب میچور ہونے والے یہ ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کی مالیاتی لین دین ہے اور اسے کسی اور زاویے سے پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ تعلق وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔
پاکستان کے عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس کلیدی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے اس دیرپا دوستی کی بنیاد رکھنے میں ادا کیا، نیز پاکستان کے لیے ان کی خصوصی محبت کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اس پائیدار تعلق کو مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ نے بجا طور پر ’وقار‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ ”میڈیا کے بعض حلقوں میں حکومتِ پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ سے متعلق قیاس آرائیوں اور تبصروں کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔
حکومتِ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات پورے کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“ یہ ایک مناسب ردِعمل تھا، کیونکہ معیاری معاہداتی شق کے تحت قرض دہندہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت میعاد پوری ہونے سے پہلے اصل زر، اس پر واجب الادا سود یا کسی بھی فیس کی واپسی کا تقاضا کر سکتا ہے۔
اگرچہ قرض کی واپسی کی معاشی وجوہات میں میکرو اکنامک دباؤ (ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، بلند مہنگائی، علاقائی تنازعات یا دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی جو جاری تنازع کا نتیجہ ہو سکتی ہے) شامل ہیں،اور یہ تمام عوامل موجودہ صورتحال میں لاگو بھی ہوتے ہیں،تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اس قرض کی واپسی میں جیو پولیٹکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بہرحال، وزارتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھیں اور جو افراد کسی معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں، وہ عوامی بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسے سوالات متعلقہ وزارت کی جانب بھیجیں۔
پاکستان کے پاس بھی تین ایسے پہلو ہیں جنہیں اب تک کابینہ کے کسی رکن نے اجاگر نہیں کیا۔ اول، اتصالات اب بھی 2005 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں 80 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الادا ہے، جس پر جمع ہونے والا سود بھی تاحال شمار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والی متعدد حکومتوں نے یو اے ای سے اس معاملے پر مفاہمت کی کوشش کی مگر تاحال کامیابی نہیں ملی۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت قرض کی واپسی کے تناظر میں اس رقم کے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرے گی۔
دوم، یو اے ای میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، جو وہاں دوسری بڑی قومی برادری ہیں، ملازمت کرتے ہیں (غیر ہنر مند/نیم ہنر مند اور بڑھتی تعداد میں ہنر مند افراد بھی شامل ہیں)۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خود یو اے ای کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ان پاکستانیوں نے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 10 فیصد بھیجا، 3 ارب 71 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، جو کل 38 ارب 29 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ہے۔ مارچ 2026 میں یو اے ای سے ترسیلاتِ زر 82 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں، جو اس ماہ کی مجموعی وصولیوں (3 ارب 83 کروڑ 14 لاکھ ڈالر) کا تقریباً 21.4 فیصد بنتی ہیں۔
سوم، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کا تخمینہ، جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ تھے، تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا تھا (جس میں بینک ڈپازٹس اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں)۔ اگرچہ تنازع کے باعث رئیل اسٹیٹ کی قدر میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستانی اب بھی یو اے ای میں قابلِ ذکر اثاثے رکھتے ہیں، جن میں سیاستدانوں، نجی شعبے اور دیگر افراد کی ملکیت شامل ہے۔
آخر میں، پاکستان بدستور اپنے زرمبادلہ ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور بطور ثالث ملک کا کردار اس کی قرض لینے کی صلاحیت کو تقویت دے رہا ہے، تاہم امید یہی ہے کہ شرحِ سود اور ادائیگی کی مدت پر پیشگی اور مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کے اندر غیر روایتی مگر مؤثر پالیسی اقدامات (خصوصاً جاری اخراجات میں کمی) وضع اور نافذ کیے جائیں تاکہ بیرونی و داخلی قرضوں پر انحصار کم ہو، جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
