ٹیکس کیسز کا بڑھتا انبار، حل کیا ہے؟

پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے.

پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے—یعنی بہت زیادہ کیسز، کم ججز اور ناکافی انفراسٹرکچر۔ یہ وضاحت اگرچہ آسان اور قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔

اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ نظام کے ڈیزائن اور اس کے اندر موجود ترغیبات میں ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جو ادارہ جاتی بہتری اور ہائی کورٹ ججز کے برابر تنخواہوں کے باوجود مسلسل بڑھتے ہوئے زیرِ التوا کیسز کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِاعظم کو دیے گئے اعداد و شمار، جو پریس میں رپورٹ ہوئے، کے مطابق عدالتوں اور اپیلیٹ ٹربیونلز میں زیرِ التوا متنازع کیسز کا مجموعی حجم 2024 میں 3.76 کھرب روپے سے بڑھ کر 5.457 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے—یعنی 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

اس کا ایک بڑا حصہ—3.3 کھرب روپے سے زائد—صرف اے ٹی آئی آر میں زیرِ التوا ہے، جہاں بیس ہزار سے زیادہ کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ بہتر تنخواہوں اور وقفے وقفے سے تقرریوں کے باوجود کیسز کا فیصلہ کرنے کی رفتار ہمیشہ نئے کیسز کے آنے کی رفتار سے کم رہتی ہے۔ ٹیبل I ٹیکس لٹیگیشن کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے بیک لاگ اور اس میں شامل بھاری رقوم کو ظاہر کرتا ہے۔

=================================================================     Table I: Tax Litigation Backlog in Pakistan (April 2026)    =================================================================Forum                              Number of Cases                                                Amount Involved (Rs)            =================================================================Supreme Court of Pakistan           3,277             169 billionIslamabad High Court                1,979             482 billionLahore High Court                   7,490             963 billionSindh High Court                    2,081             480 billionPeshawar High Court                   241              27 billionBalochistan High Court                 37               6 billionTotal (Superior Courts)            11,938          ~1.96 trillionAppellate Tribunal Inland Revenue (ATIR)                    21,767+          3.33 trillion+=================================================================

کیسز کے آنے اور نمٹائے جانے کے درمیان خلا مسلسل بڑھ رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عدالتی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام میں داخل ہونے والے کیسز کی تعداد اور نوعیت کا بھی ہے۔ یہ عدم توازن نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ناقابلِ اجتناب—یہ براہِ راست ایک ایسے ٹیکس انتظامی ماڈل کا نتیجہ ہے جو تصفیہ کے بجائے لٹیگیشن کو فروغ دیتا ہے۔

زیادہ شدت والے اسیسمنٹس، جو اکثر طے شدہ قانون کو نظرانداز کر کے بنائے جاتے ہیں، ابتدائی مرحلے پر ہی تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اپیلیٹ مراحل میں ان میں سے بہت سے کیسز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اپنے رویے کو درست کرنے کے بجائے ایف بی آر معمول کے مطابق اور اکثر غیر ضروری اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں کیسز اس رفتار سے داخل ہوتے ہیں جس رفتار سے وہ کبھی نمٹائے نہیں جا سکتے۔

ادارہ جاتی ردعمل متوقع لیکن غیر مؤثر رہا ہے: مزید ججز تعینات کیے جائیں، مزید فنڈز مختص کیے جائیں اور انفرااسٹرکچر کو وسعت دی جائے۔ یہ طریقہ کار صرف علامات کا علاج کرتا ہے جبکہ اصل وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایسے نظام میں جہاں غیر ضروری لٹیگیشن مسلسل پیدا ہو رہی ہو، وہاں عدالتی صلاحیت بڑھانا ایسے ہی ہے جیسے نالی کو چوڑا کرنا مگر پانی کے بہاؤ کے اصل منبع کو نہ روکنا۔

اے ٹی آئی آر کے اندر موجود عملی کمزوریاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں (ٹیبل II)۔ کیسز کے بہاؤ، زیرِ التواء صورتحال اور فیصلوں کی رفتار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کوئی مربوط ڈیش بورڈ موجود نہیں۔ ورچوئل سماعتیں تقریباً موجود نہیں۔ کیس مینجمنٹ بکھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس قانون میں خصوصی مہارت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، جو فیصلوں کے معیار اور تسلسل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

==========================================================              Table II: Trend in ATIR Backlog             ==========================================================Year             Number of Cases      Amount Involved (Rs)==========================================================2022                63,655                   1.46 trillion2024              Not disclosed             2.235 trillionLatest (2026)   21,767+ (active)            3.33 trillion+==========================================================

اعلیٰ عدلیہ کی صورتحال بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس میں ٹیکس قانون میں گہری مہارت رکھنے والے خصوصی بینچز شاذ و نادر ہی ٹیکس کیسز سنتے ہیں۔ مخصوص ٹیکس بینچز کی عدم موجودگی سے عدالتی نظائر میں عدم تسلسل، طویل سماعتیں اور اپیلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ماڈل کیوں ناکام ہوتا ہے، تقابلی نظاموں (ٹیبل III) کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اس کے برعکس صورتحال واضح طور پر مختلف ہے۔ برطانیہ میں، اگرچہ بعض اوقات کیسز کے بیک لاگ کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، لیکن متبادل تنازعہ حل(اے ڈی آر) جیسے نظام کے ذریعے زیادہ تر تنازعات چند ماہ میں حل کر لیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی فریق تصفیہ سے انکار کرے تو اس کا اثر اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔

کینیڈا میں تنازعات کو ابتدائی مرحلے پر ہی انتظامی نظرثانی اور منظم قانونی کارروائی کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے، جبکہ کاسٹ ریکوری میکنزم نظام میں نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں رسمی تنازعہ حل کرنے کے فریم ورک کا مقصد ہی یہ ہے کہ تنازعات پیدا ہی نہ ہوں، اور اس کے لیے یقین دہانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ان تمام نظاموں میں ایک اصول مشترک ہے: قانونی چارہ جوئی (لیٹگیشن) کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں۔

پاکستان کا نظام اس کے برعکس اصول پر کام کرتا ہے۔ یہاں قانونی چارہ جوئی عملی طور پر ریاست کے لیے بغیر کسی مالی ذمہ داری کے ہے۔ ٹیکس حکام بغیر کسی مالی جوابدہی کے اپیلیں دائر کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں۔ یہی نتائج کے عدم موجودگی بیک لاگ کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجہ قابلِ پیش گوئی ہے۔ معاملات سالہا سال مختلف فورمز سے گزرتے رہتے ہیں اور عدالتی وقت اور عوامی وسائل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان نظاموں میں جہاں مؤثر کاسٹ ریجیم موجود ہیں، فریقین کو کمزور کیسز دائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی ٹربیونل بیک لاگز اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مقدمات کی آمد فیصلوں سے بڑھ جائے—اور اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پالیسی و طریقہ کار میں اصلاحات کے ذریعے اسے درست کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصلاحی نظام موجود نہیں۔

وسیع تر نظام بھی اسی غیر مؤثر کارکردگی کو مضبوط کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی پورے قانونی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب وکلا کے لیے زیادہ کام، عدالتی صلاحیت بڑھانے کا زیادہ جواز، اور ادارہ جاتی جمود میں اضافہ ہے۔ یوں یہ نظام اپنے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی ترغیبات رکھتا ہے۔

اس کے معاشی اثرات سنگین ہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو غیر یقینی صورتحال اور طویل تنازعہ جاتی عمل سے عبارت ہو، سرمایہ کاری کو روکتا ہے، تعمیل کو کم کرتا ہے اور محصولات کی وصولی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ٹیکس انصاف کی غیر مؤثر فراہمی کے کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حل صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ ترغیبات درست کرنے میں ہے۔

اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اصلاح ضروری ہے۔ جارحانہ تشریحات کی بنیاد پر کیے جانے والے اضافوں کی حوصلہ شکنی داخلی احتساب کے ذریعے ہونی چاہیے، اور کارکردگی کے پیمانے کو غیر حقیقی ٹیکس مطالبات کے بجائے پائیدار آمدنی کی طرف منتقل کرنا چاہیے۔

ایک مؤثر لاگت اور مالی جرمانوں کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے۔ عدالتوں اور ٹربیونلز کو غیر ضروری یا فضول مقدمہ بازی پر حقیقت پسندانہ اخراجات عائد کرنے چاہئیں، بشمول سرکاری محکموں کے۔ جب تک مالی نتائج موجود نہیں ہوں گے، رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

ادارہ جاتی تنظیم نو بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک نیشنل ٹیکس کورٹ کا قیام تقسیم کو کم کر سکتا ہے اور یکسانیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اپیلوں کو صرف قانون کے اہم نکات تک محدود کیا جانا چاہیے، جن کی منظوری نیشنل ٹیکس کورٹ دے، اور انٹرا کورٹ اپیل کی گنجائش موجود ہو۔

خصوصی مہارت کو بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ ہائی کورٹس میں مخصوص ٹیکس بینچز اور تکنیکی طور پر ماہر ٹربیونل اراکین مؤثر اور معیاری فیصلوں کے لیے ضروری ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز، ورچوئل سماعتیں اور ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کوئی لگژری نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔

آخر میں، نظام کو یقینی نتائج اور انصاف کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کا حل؛ جہاں ٹیکس دہندگان انصاف کو محسوس کرتے ہیں، وہاں قانونی چارہ جوئی کم ہو جاتی ہے۔

پاکستان کا موجودہ طریقہ کار—زیادہ فنڈز مختص کرنا اور زیادہ ججز تعینات کرنا—اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ بیک لاگ کو صلاحیت کا مسئلہ سمجھتا ہے، نہ کہ ترغیبات کا مسئلہ۔ اربوں روپے کی زیر التوا قانونی چارہ جوئی کا تسلسل اتفاقی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو مناسب احتساب کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصلاح کا مطلب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔

انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو ایسا نظام چلاتا رہے جو تنازعات پیدا کرتا ہے، یا ایسا نظام دوبارہ ڈیزائن کرے جو انہیں روکتا ہے۔ صرف دوسرا راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر 24 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Read Comments