امریکا میں ایچ ون بی ویزا پروگرام میں مبینہ فراڈ سامنے آگیا

کئی 'گھوسٹ کمپنیاں' بھی ملوث ہونے کا انکشاف: تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
شائع 01 مئ 2026 10:50am

امریکا کی ریاست ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے تقریباً 30 کمپنیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایچ ون بی ویزا پروگرام میں مبینہ فراڈ کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کی اسپانسر شپ کے لیے غیر قانونی طریقے اختیار کیے۔

اٹارنی جنرل کے دفتر نے ان کمپنیوں کو قانونی نوٹس بھیجے ہیں، جن کے ذریعے ان سے ملازمین کی تفصیلات، مالی ریکارڈ اور کاروباری رابطوں کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا ویزا کے غلط استعمال کا کوئی سلسلہ موجود ہے یا نہیں۔

تحقیقات کے دائرے میں آنے والی نمایاں کمپنیوں میں ٹیک پرو آئی ٹی، فیم پی بی ایکس، فرسٹ رینکنگ ٹیکنالوجیز، کوبٹز ٹیک سسٹمز، بلومنگ کلاؤڈز، ویرات سلوشنز، اوک ٹیکنالوجیز، ٹیک پاتھ اور ٹیک کوئنسی شامل ہیں۔

ان اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ویزا سسٹم کا استحصال کرتے ہوئے غیر ملکی ملازمین کو مشکوک طریقے سے اسپانسر کیا۔ حکام کے مطابق یہ تحقیقات اس شبہ کے تحت کی جا رہی ہیں کہ ان کمپنیوں نے قانون کی منشا کے برعکس کام کیا اور پروگرام کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ اس مبینہ فراڈ میں کئی ایسی کمپنیاں ملوث ہیں جنہوں نے صرف کاغذات کی حد تک اپنا وجود برقرار رکھا ہوا تھا۔ ان اداروں نے ’گھوسٹ آفسز‘ یعنی ایسے فرضی پتے استعمال کیے جہاں حقیقت میں کوئی دفتر یا کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی، بلکہ یہ مقام صرف ویزا درخواستوں کو قانونی رنگ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اگرچہ فی الحال یہ تمام الزامات ابتدائی سطح پر ہیں اور کسی بھی ادارے کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا، لیکن اس تحقیقات نے امیگریشن نظام اور ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے کے طریقوں پر کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پروگرام کو بدنیتی پر مبنی عناصر کے ہاتھوں کا آلہ کار نہیں بننے دیں گے اور ان کا دفتر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امیگریشن سسٹم میں موجود قانونی سقم کو ختم کر کے امریکی شہریوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

ٹیکساس میں مقیم پاکستانی اور ہندوستانی سمیت پوری جنوبی ایشیائی کمیونٹی اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس خطے کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں اس کمیونٹی کے بے شمار ماہرین قانونی طور پر اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کمیونٹی کے سرکردہ افراد کا کہنا ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی بدنیتی پر مبنی اقدامات پوری کمیونٹی کی برسوں کی محنت اور ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں ہونے والے انکشافات سے یہ تصویر واضح ہو سکے گی کہ آیا یہ چند کمپنیوں کا انفرادی فعل ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑا منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔

اس قانونی کارروائی کی زد میں آنے والی زیادہ تر کمپنیاں ڈیلس اور فورٹ ورتھ کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں، جو کہ آئی ٹی سیکٹر کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب ایچ ون بی ویزا پروگرام پہلے ہی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جہاں بہت سے ادارے اسے باصلاحیت افراد کے حصول کا ناگزیر ذریعہ سمجھتے ہیں، وہیں اس مبینہ فراڈ نے یہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کس طرح بعض گروہ منظم طریقے سے روزگار کے مواقع اور امیگریشن قوانین پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی ادارے کو قصوروار پائے جانے پر سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read Comments