ہم نے ابھی شروعات نہیں کی، امریکا کے لیے حالات ناقابلِ برداشت ہوگئے ہیں: ایران
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران نے ابھی اپنی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں کیا اس کے باوجود امریکا کے لیے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تمام صورتِ حال کا ذمہ دار امریکا ہے جس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اب ایک نئی مساوات قائم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری ناکہ بندی کر کے جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال کا تسلسل امریکا کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، جب کہ ہم نے تو ابھی آغاز بھی نہیں کیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی شرپسندی کا جلد خاتمہ ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی اور سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جسے تہران علاقائی استحکام اور بین الاقوامی توانائی کی گزرگاہوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسکی بحریہ نے پیر کے روز امریکی جنگی جہازوں کو ایک وارننگ دیتے ہوئے میزائل اور ڈرونز فائر کیے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی بحری جہازوں نے بارہا انتباہ کے باوجود ایرانی حدود کے قریب آنے کی کوشش کی۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ سے کسی بھی قسم کی تجارتی نقل و حرکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے، کیونکہ ایران ان اہم بحری راستوں پر اپنے خودمختار حقوق کا سختی سے دفاع کر رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اس سمندری حدود پر اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور باقاعدہ میزائل اور ڈرون مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی چھ ایرانی چھوٹی کشتیوں کو فائرنگ کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے سویلین کشتہوں کو نشانہ بنایا جن میں پانچ عام شہری مارے گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جن کشتیوں کو امریکا نے نشانہ بنایا وہ فوجی نہیں بلکہ سویلین کشتیاں تھیں جن پر سامان اور مسافر سوار تھے۔
اس کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور میزائل حملوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ تاہم، ایران نے ان حملوں یو اے ای پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے انہیں امریکی مہم جوئی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس اور متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے امکانات ہیں۔