ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نیا خود مختار گورننس سسٹم باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے، جس کے تحت اب تمام تجارتی جہازوں کو گزرنے کے لیے پیشگی اجازت نامہ (ٹرانزٹ پرمٹ) حاصل کرنا ہوگا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس نئے نظام کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند تمام جہازوں کو ایک سرکاری ای میل ایڈریس کے ذریعے قواعد و ضوابط فراہم کیے جائیں گے، جن پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ جہازوں کو اس گزرگاہ سے عبور کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے اس اقدام کو خودمختار بحری انتظامی نظام قرار دیا ہے، جو اب باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اس سے قبل پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اشارہ دیا تھا جس میں امریکا اور اسرائیل نے لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کرنا پڑا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار کیا تھا جس نے خطے میں بڑے پیمانے پر جارحیت کو روکنے میں مدد دی تھی۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں ایک نئے قانون کے مسودے پر کام جاری ہے جس کے تحت امریکا اور اسرائیل سے وابستہ کسی بھی بحری جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
اس کے علاوہ، دیگر ممالک کے جہازوں کے لیے ایک خصوصی ’ٹولنگ سسٹم‘ (ٹول ٹیکس) بھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔
اتوار کے روز امریکا نے آبنائے ہرمز سے ایرانی کنٹرول ختم کرنے اور تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے کے نام پر بحری آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں پیر کے روز ایران اور امریکا، دونوں کی جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
منگل کو امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے مگر امریکا ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی بحری آپریشن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ایران نے حملے جاری رکھے تو اسے امریکا کی بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جس کے بعد اب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائیں گے اور کسی بھی چیلنج کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔