بے سمت معیشت؟
ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔
وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔
قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘
بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔
او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔
جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔
پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔
یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘
اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔
اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔
اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔
پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔
اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔
جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔
اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔
اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔
پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘
تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔
ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔
پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔
لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
