خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
فنانس ڈویژن کی ماہانہ اشاعت ’’اپریل اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک‘‘ میں کچھ تشویشناک معاشی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، یا ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کو، یا پھر اُن سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو جن پر پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اتفاق کیا؟ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مجموعہ ہیں؟
اس کا ایک بہتر پیمانہ گزشتہ چار برس کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران پر امریکا/اسرائیل حملے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جولائی تا مارچ 2026 کے لیے سی پی آئی کی شرح 5.9 فیصد اندازہ کی گئی، مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی، جب کہ جولائی تا مارچ 2025 میں یہ 5.3 فیصد اور مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تھی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق اپریل 2026 میں سی پی آئی کی شرح 10.8 فیصد رہی، جبکہ جولائی تا اپریل قومی اوسط شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی، تاہم جولائی تا اپریل 2023-24 کے دوران یہ شرح کہیں زیادہ یعنی 25.97 فیصد رہی تھی۔
2023-24 میں ’’شدید مہنگائی‘‘ کی بنیادی وجہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار (28 ستمبر 2022 تا 10 اگست 2023) کی انتہائی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحاتی اقدامات کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر جون 2023 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے نو ماہہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اتفاق کیا گیا تھا۔ ان اقدامات میں شامل تھے: (الف) جون/جولائی 2023 میں روپے کی قدر میں بڑا انحطاط، جس کی ضرورت اُس وقت موجود متعدد شرح مبادلہ نظام کے باعث پیش آئی تھی — اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو برقرار رکھنے کی اُس پالیسی کا براہِ راست نتیجہ تھی جو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور یہ پالیسی اُس وقت بھی جاری رکھی گئی جب فروری/مارچ 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔
اُس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر مداخلت کرکے ایس بی اے کو یقینی بنانا پڑا۔ (ب) اسحاق ڈار نے اکتوبر 2022 میں امیر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر 110 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کا اعلان کیا، جبکہ اُس وقت 3 کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تھا۔ (ج) 2023-24 کے بجٹ میں مجموعی محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس اضافوں پر اتفاق کیا گیا؛ (د) پالیسی ریٹ کو 22 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھا گیا؛ اور (ہ) مکمل لاگت وصولی یقینی بنانے کے لیے یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جو کم از کم ایک بڑا چیلنج تھا، خاص طور پر اُس حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس کے تحت قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً گھریلو سولر پینلز، کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوئی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا، جن پر 2014 میں نواز شریف کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اتفاق کیا تھا۔
چنانچہ اگرچہ ناقص پالیسیوں نے عوام کے معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کی روایتی شرائط ، جو بنیادی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر زور دیتی ہیں، نے معاشی ترقی کی اُس شرح کے حصول کو متاثر کیا جو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کو کھپا سکتی، اور یہی ملک میں بڑھتی غربت کی ایک اہم وجہ بنی۔
موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی حکومتوں نے اُن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ افراد پاکستان کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 7 فیصد ہیں، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں۔
غربت کی شرح 2023-24 میں بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی، جو 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2021-22 میں 18.31 فیصد تھی، جبکہ 2024-25 میں یہ مزید بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح یومیہ 3.20 ڈالر آمدن کی بنیاد پر نکالی گئی؛ تاہم اگر اسے غذائی توانائی کی ضروریات (کیلوریز) کے پیمانے پر جانچا جائے تو ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد تک بتائی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ناقص پالیسیاں آج بھی جاری ہیں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے۔ رواں سال 1.25 کھرب روپے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے گئے جو زیادہ شرح منافع پر حاصل کیے گئے تھے، اور ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کی توجہ اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بلند پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس بلند شرح سود کی ادائیگی بنیادی طور پر حکومت کو اپنی بھاری سالانہ خسارے کی مالی ضروریات کے باعث کرنا پڑتی ہے، جس سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض لینا نسبتاً بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان کی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو پاکستانی صنعت کی علاقائی مسابقت میں مسلسل گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔
جولائی تا مارچ 2026 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 410.7 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.5 ارب ڈالر تھی۔ اگرچہ یہ کمی تشویشناک ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی انتہائی کم سطح پر تھی — بھارت میں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً 48 ارب ڈالر رہی۔ یہ صورتِ حال حکومت کی اُن کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے تحت خصوصی مراعات (مالیاتی اور مانیٹری) اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی کی ضمانتیں دے کر سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی نمائندگی پر مشتمل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی تاکہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ دو وجوہات کی بنا پر ایف ڈی آئی تاحال خاطر خواہ انداز میں نہیں آ سکی: (i) معیشت کی کمزوری بدستور برقرار ہے، جس کا اندازہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ یہ مصنوعات ہماری مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں پر مبنی 15.1 ارب ڈالر تھے۔ اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.45 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کا اعلان کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ ذخائر کے اعداد میں اس ادائیگی کو شامل کیا گیا تھا یا سعودی عرب سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر قرض کو۔
حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط، خصوصاً ترقی مخالف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں، کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور کسی غیر روایتی یا ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ حل پر غور نہیں کیا جا رہا، جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی بی ایس نے پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کو بھی ایل ایس ایم پیداوار میں شامل کیا ہے، حالانکہ یہ اشیا زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، اور جولائی تا مارچ ایل ایس ایم نمو سالانہ بنیاد پر 6.48 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایل ایس ایم میں اضافہ دراصل پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے بجائے ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوا۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے غیر روایتی حل مرتب اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی جائے — خواہ یہ تنخواہوں میں جمود، خریداریوں پر پابندی (آپریشنل اخراجات کے سوا)، پنشن نظام میں وسیع اصلاحات (آج ریاست کے تحت ملازم 7 فیصد افراد سے پنشن میں شراکت شروع کرنا) یا اندرونی قرض گیری پر پابندی کی صورت میں ہو۔
نوٹ: یہ تحریر11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
