جیکب آباد: پسند کی شادی پر دو برادریوں میں کشیدگی، گھروں کو آگ لگا دی گئی

پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اپ ڈیٹ 16 مئ 2026 08:42pm

جیکب آباد کے نواحی علاقے میرپور برڑو میں پسند کی شادی کے بعد دو برادریوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر چالیس سے زائد گھروں کو آگ لگا دی گئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

جیکب آباد کے نواحی علاقے میرپور برڑو میں پسند کی شادی کے بعد دو برادریوں کے درمیان کشیدگی شدید صورتحال اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

چنا برادری کی 14 سالہ لڑکی سدرہ نے برڑو برادری کے نوجوان محمد حسن برڑو کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں مبینہ طور پر گھر سے چلے گئے۔ واقعے کے بعد دولہے کے خاندان نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنا گھر خالی کرکے نامعلوم مقام پر منتقل ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً 10 روز بعد تنازع شدت اختیار کر گیا، جس دوران مبینہ طور پر گاؤں محمد صدیق آرائیں میں حملہ کیا گیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مشتعل افراد نے پورے گاؤں کو نذرِ آتش کیا اور گھروں میں موجود سامان بھی جلا دیا، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

متاثرہ فریق کی مدعیت میں پولیس نے 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں محسن علی چنو، صدام حسین چنو، عبداللہ چنو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے مطابق سیکڑوں افراد نے حملہ کرکے گھروں کو آگ لگائی اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلایا۔

واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب مقامی سطح پر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تنازع کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور لوگ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Read Comments