کیا اب کیوبا کی باری ہے؟

.
شائع 19 مئ 2026 04:11pm

کیوبا کے خلاف امریکی عداوت کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ دور میں اس اجتماعی سزا کی لہر نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ جب سے فیدل کاسترو نے 1959 میں امریکی تسلط کو للکارا، واشنگٹن اس سرکشی کو کچلنے کے لیے بضد ہے۔ آج، معاشی پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیوبا کی تاریخی ناکہ بندی کو مزید جابرانہ بنا دیا گیا ہے، جس کا براہِ راست نشانہ وہاں کے عام شہری بن رہے ہیں۔

ٹرمپ کے برسرِاقتدار آتے ہی روس اور ایران سمیت وینزویلا میں مدورو کے خلاف امریکی شب خون کے بعد وہاں سے بھی کیوبا کو ہونے والی تیل کی درآمدات زبردستی بند کر دی گئیں۔ اس دانستہ معاشی گھیراؤ نے کیوبا میں توانائی کے بحران کو ایک ہولناک المیے میں بدل دیا ہے، جہاں اب بجلی، خوراک، پانی، ایندھن اور صحت جیسی بنیادی انسانی ضرورتیں سسک رہی ہیں۔ یہ بے رحمانہ ستم گری دراصل کیوبا کی قومی خودمختاری کو کچلنے اور اس کے سوشلسٹ ترقی کے خواب کو ملیا میٹ کرنے کے ایک وسیع تر اور منظم حملے کا حصہ ہے۔

ٹرمپ 2017 (اپنے پہلے دورِ صدارت) سے ہی اوباما انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے امریکہ کیوبا تعلقات میں محدود معمول پر لانے کے اقدامات کو جان بوجھ کر ختم کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں کیوبا کو ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی معاشی جنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اس دباؤ نے پورے کیوبا میں مادی ضروریات کی سپلائی کو تباہ کر دیا ہے، دس لاکھ کیوبن شہریوں کے امریکہ فرار ہونے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور ملک کی پہلے سے کمزور آبادی پر شدید مشکلات مسلط کر دی ہیں۔ اس معاشی جنگ نے کیوبا میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ کیا ہے، صرف ایک اعداد و شمار کو لیں تو یہ شرح 2018 میں 4.0 اموات فی زندہ پیدائش سے بڑھ کر 2025 میں 9.9 ہو گئی ہے، جس کی بڑی وجہ طبی سامان کی قلت ہے۔

کیوبا واشنگٹن کی دشمنی کا شکار صرف اس لیے بنتا ہے کیونکہ وہ اپنے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے اپنے حق پر اصرار جاری رکھے ہوئے ہے، جو کہ ناانصافی سے پاک ایک سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کی خواہش پر مبنی ہے۔ دوسری طرف پورے لاطینی امریکہ، کیریبین اور وسیع تر دنیا پر اپنا غلبہ مسلط کرنے کا امریکہ کا خود ساختہ حق ایسے مصائب کا باعث بنتا ہے جو اس کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہیں۔

1959 سے اب تک واشنگٹن کے سر پر صرف ایک ہی خبط اور جنون سوار رہا ہے کہ کیوبا کے انقلاب کو جڑ سے اکھاڑنا اور ان نوآبادیاتی زنجیروں کو دوبارہ بحال کرنا جو کبھی امریکہ کیوبا تعلقات کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ آج واشنگٹن کو یہ خوف نہیں کہ کیوبا لاطینی امریکہ یا ترقی پذیر دنیا میں انقلابی لہروں کی پشت پناہی کرے گا بلکہ اب تو خود اس انقلاب کا زندہ وجود ہی ان کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب ہے۔ امریکی بالادستی اور سرمایہ دارانہ پسماندگی کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی یہ متبادل مثال امریکی قیادت کو غیظ و غضب میں دانت پیسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس لیے کیوبا کو قبضے میں لینے کی حالیہ دھمکیوں (جو کہ ایک بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ ہے جس میں گرین لینڈ، کینیڈا اور دیگر شامل ہیں) کو الگ تھلگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کرنے میں مدد کرتی ہیں، ایک امریکی حملہ کسی نئے تنازع کا آغاز نہیں ہوگا بلکہ کیوبا کے خلاف ایک طویل جنگ کے خونریز ترین مرحلے کی علامت ہوگا،سامراج کی نظر میں کیوبا کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی تسلط کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اپنی آزادی اور قومی خودمختاری کا علم بلند کیا۔ اس نے اس پرانے نوآبادیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جو نہ صرف امریکی کارپوریٹ اداروں کی تجوریاں بھرتا تھا، بلکہ کیوبا کے جوئے خانوں، بدکاری کے اڈوں اور بڑے پیمانے پر جسم فروشی کے دھندے کو کنٹرول کرنے والے مافیا کی پشت پناہی کرتا تھا۔

کیوبا کو اس کی سرکشی اور امریکی سلطنت کے احکامات کے سامنے عاجزی سے جھکنے سے انکار پر سخت سزا دی جا رہی ہے۔ واشنگٹن جس بات کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے وہ کیوبا کا یہ عقیدہ ہے کہ آزادی اور خودمختاری سے بڑھ کر کچھ بھی قیمتی نہیں ہے۔

کیوبا کی آزادی طویل عرصے سے فلوریڈا سے محض 90 میل دور امریکہ سے اس کی قربت کی وجہ سے خطرے میں رہی ہے۔ 19ویں صدی کے آغاز سے ہی کیوبا امریکی سامراجی خواہشات کا مرکزی محور رہا ہے۔ واشنگٹن نے کیوبا کو اس وقت ایک خودمختار قوم کے طور پر نہیں دیکھا تھا جب وہ اپنی آزادی کے لیے ہسپانوی نوآبادیات کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس نے میڈرڈ کے ساتھ تنازع کو کیوبا کی جنگِ آزادی پر قبضہ کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا، تاکہ 1898 میں نوآبادیاتی آقا کی جگہ خود لے سکے۔ اس کے بعد کیوبا کو اخلاقی کرپشن اور بدکاری کے ایک ایسے جزیرے کی سطح تک گرا دیا گیا، جسے ہوانا میں کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے برقرار رکھا گیا تھا۔

یہ بپتسٹا کی قیادت میں قائم ایک ایسی ہی فوجی حکومت تھی جسے کاسترو اور ان کے سرشار، بہادر گوریلاؤں نے 1959 میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔

فیدل کاسترو کے انتقال کے بعد واشنگٹن اب کیوبا میں بھی وینزویلا آپریشن کا اسکرپٹ دہرانے کے چکر میں ہے۔ اس نئی سازش کا آغاز راؤل کاسترو پر عائد اس وفاقی فردِ جرم سے کیا گیا ہے جس کے مطابق 1996 میں بطور وزیرِ دفاع انہوں نے فلوریڈا سے اڑنے والے ان دو طیاروں کو مار گرانے کا حکم دیا تھا جو کیوبا کے جلاوطنوں کی انقلاب مخالف مہم کے تحت ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

لیکن کیوبا کا انقلاب ایک ایسا سخت اخروٹ ثابت ہوگا جسے توڑنا ٹرمپ کے خوابوں سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ کیوبا کا ہر مرد، عورت اور بچہ راستے کی دیوار بن جائے گا اور مدورو کے اغوا جیسی کسی بھی دہرائی جانے والی کوشش کو ناکام بنا دے گا۔

کیوبا کے خلاف واشنگٹن کے جارحانہ عزائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے فی الحال ایک اور جھوٹ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ کیوبا امریکہ پر حملہ کرنے کے لیے ڈرون جمع کر رہا ہے! اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کا تصور کرنا بھی مشکل ہوگا۔ کیوبا بھلا کیوں ایسی فوجی کارروائی کو دعوت دے گا، جس کا مقابلہ کرنا اگرچہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے لیکن پھر اسے اس سے بچنا پڑے گا؟ یہ انتہائی درجے کی مضحکہ خیزی ہے۔


نوٹ: یہ تحریر 19 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Read Comments