سپریم کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں ضمانت کا نیا اصول طے کردیا
سپریم کورٹ نے چیک باؤنس مقدمات سے متعلق ایک اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر لین دین سے متعلق کوئی واضح تحریری معاہدہ موجود نہ ہو اور معاملہ بظاہر سول نوعیت کا ہو تو ایسے کیس میں عبوری ضمانت کی توثیق کی جا سکتی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے 60 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کیس میں ملزم کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیک باؤنس کیس سے متعلق اہم سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
دوران سماعت ملزم محمد فیصل کے وکیل ذوہیب عمران شیخ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ سٹی خانیوال میں ان کے مؤکل کے خلاف 60 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کا مقدمہ درج کیا گیا۔
وکیل کے مطابق مدعی اور اس کے دوستوں کے درمیان مالی لین دین کا تنازع پیدا ہوا تھا، جس کے تصفیے اور صلح کیلئے ملزم نے بطور گارنٹی چیک دیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بعد ازاں مدعی نے حقائق تبدیل کرتے ہوئے اسی چیک کا غلط استعمال کیا اور فوجداری مقدمہ درج کروا دیا۔
وکیلِ صفائی نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چیک دوستوں کے درمیان صلح کرانے کیلئے دیا گیا تھا، نہ کہ کسی باقاعدہ کاروباری ادائیگی کیلئے۔
دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکیل نے ملزم کی عبوری ضمانت کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ چیک کی رقم خطیر ہے، اس لیے ملزم کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق مدعی اور ملزم ایک دوسرے کے دیرینہ دوست ہیں، جبکہ 60 لاکھ روپے کے متنازع لین دین سے متعلق کوئی تحریری معاہدہ یا واضح دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے آبزرویشن دی کہ بظاہر یہ معاملہ کاروباری لین دین اور سول نوعیت کے تنازع سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عبوری ضمانت کے مرحلے پر شواہد کی گہرائی اور تفصیل میں جانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ اختیار ٹرائل کورٹ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ملزم کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے کا تعین مکمل ٹرائل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ عدالت نے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم محمد فیصل کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔
