خواجہ آصف کے ٹویٹ کے بعد فوری ایکشن: لیسکو کے 3 اہلکار معطل

معطل کیے گئے اہلکاروں میں لائن سپرنٹنڈنٹ محمد حسین، لائن مین شوکت اور لائن مین فلک شیر شامل ہیں۔
شائع 31 مئ 2026 06:54pm

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے لیسکو کے خلاف کی گئی ٹویٹ کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 2 لائن مین اور ایک لائن سپرنٹنڈنٹ کو معطل کردیا گیا ہے۔

ایکسیئن پھول نگر ڈویژن کے مطابق معطل کیے گئے اہلکاروں میں لائن سپرنٹنڈنٹ محمد حسین، لائن مین شوکت اور لائن مین فلک شیر شامل ہیں۔

لیسکو حکام کے مطابق گاؤں میں 200 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر جلنے کے بعد 100 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر نصب کیا جا رہا تھا تاہم مقامی افراد اور خواجہ آصف کے کوآرڈینیٹر نے عملے کو کام سے روک دیا۔

ایکسیئن پھول نگر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود چک 27 کا دورہ کیا لیکن کسی بھی شخص نے لیسکو عملے کو رشوت دیے جانے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے شکایت کی تھی کہ ان کے ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر 80 ہزار روپے مبینہ رشوت کے بعد تبدیل کیا گیا۔

لیسکو ذرائع کے مطابق شبیر نامی ایک شخص نے گاؤں سے رقم اکٹھی کی تاہم اس کا لیسکو کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ لیسکوذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ محمد آصف کے ٹویٹ پر اعلیٰ سطح پر انکوائری جاری ہے جب کہ چیف ایگزیکٹو لیسکو کے نوٹس پر ڈائریکٹر سرویلنس اینڈ انسپکشن ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا، لیسکو کے ایک پرانے مہربان سی ای او کو فون کیا کہ کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80 ہزار روپے لیے اور مرمت کردیا اور گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کر دیا، رسید کسی نے نہیں دی۔

وزیر دفاع نے مزید کہا تھا کہ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، یہ حال ہے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ہو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ہو، اس کی سفارش پر بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا تو عام صارف کا کیا حال ہوگا۔

Read Comments