جھنگ: 18 سالہ طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے ملزمان گرفتار
جھنگ میں چار روز قبل لاپتہ ہونے والی گیارہویں جماعت کی 18 سالہ طالبہ عیشال فاطمہ کے مبینہ اغواء اور زیادتی سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال لائی جانے والی عیشال فاطمہ دورانِ علاج دم توڑ گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
جھنگ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے، جبکہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
عیشال فاطمہ چند روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور طالبہ کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم افراد عیشال فاطمہ کو بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور واقعے کے حالات کے پیشِ نظر کیس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا پہلو شامل ہوسکتا ہے تاہم حتمی رائے میڈیکل، فرانزک اور دیگر تفتیشی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد طالبہ کی حالت تشویش ناک ہونے پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف شواہد اکٹھے کیے۔ دورانِ تفتیش سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں عیشال فاطمہ کو انتہائی تشویش ناک حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔
فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر حسیب، امیش اور حسن نامی تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔
حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب لڑکی کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔