دو بار صدر، چھ بار دیوالیہ، تین شادیاں اور اَن گنت تنازعات؛ ٹرمپ کی 80 سالہ زندگی کی کہانی

ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ: بزنس ٹائیکون سے دو بار امریکی صدر بننے تک کا سفر
اپ ڈیٹ 14 جون 2026 05:37pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون کو 80 سال کے ہوگئے ہیں۔ سال گرہ کے موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کی منفرد ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پہلے ہی امریکا کے معمر ترین صدور میں شامل ہیں اور اگر اپنی موجودہ مدت مکمل کرتے ہیں تو امریکی تاریخ کے سب سے بوڑھے صدر بن جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار امریکی تاریخ کی چند متنازع ترین، رنگین طبعیت اور بااثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی صرف عمر یا سیاست تک محدود نہیں، اس کہانی میں کاروبار، دولت، شہرت، ٹیلی ویژن، کھیل اور سیاست کے علاوہ وہ تنازعات بھی شامل ہیں جو شاید ہی کسی اور امریکی صدر کے حصے میں آئے ہوں۔

جون 1946 میں نیویارک کے علاقے کوئنز میں پیدا ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ، پانچ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان کے والد فریڈ ٹرمپ امریکا کے معروف رئیل اسٹیٹ ڈیولپر تھے۔

ٹرمپ نے مشہور تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف پنسلوینیا سے معاشیات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1971 میں اپنے والد کی کمپنی کی کمان سنبھالی اور اس کا نام بدل کر ’دی ٹرمپ آرگنائزیشن‘ رکھ دیا۔

نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں مشہور فلک بوس عمارت ’ٹرمپ ٹاور‘ کی تعمیر سے انہیں خوب شہرت ملی۔ جس کے بعد وہ درجنوں پُرتعیش ہوٹلوں اور کیسینوز کے مالک بنے اور اس طرح امریکی کاروباری دنیا کی نمایاں شخصیات میں شامل ہوگئے۔

ان کی کاروباری حکمت عملی پر لکھی گئی کتاب ’دی آرٹ آف دی ڈیل‘ کو نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتاب کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کتاب میں ٹرمپ کے کاروباری فلسفے کے 11 اہم اصول بتائے گئے ہیں کہ وہ کس طرح سوچتے ہیں، لوگوں کو اپنی بات پر کیسے راضی کرتے ہیں اور بڑے بڑے کاروباری سودے کیسے طے کرتے ہیں۔

کاروباری سفر میں ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ نقصانات سے بھی دو چار ہوئے۔ ان کے بزنس برانڈز اور کمپنیوں کو 6 بار دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ہر مرتبہ امریکی کارپوریٹ قوانین کی شق ’چیپٹر 11‘ کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے۔

معروف میگزین ’دی ٹائمز‘ نے حال ہی میں صدر ٹرمپ پر اپنے خصوصی فیچر رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان 80 سالوں میں کئی زندگیاں جی ہیں۔

’وہ ایک بزنس مین بنے، پھر ارب پتی بنے، 6 بار دیوالیہ ہوئے، ایک مشہور ٹی وی رئیلٹی شو سے اسٹار بن گئے، مجرم قرار دیے گئے اور پھر دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی پوری زندگی میں ایک چیز ہمیشہ مشترک رہی اور وہ تھی، کیمرے کے سامنے رہنے کی شدید خواہش‘۔

کاروباری دنیا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 1996 میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں قدم رکھا اور این بی سی نیٹ ورک کے ساتھ پارٹنر شپ میں مِس یونیورس، مِس یو ایس اے اور مس ٹین یو ایس اے کے حسن مقابلوں کے حقوق خریدے۔ ان مقابلوں کو دنیا بھر میں لوگ ٹی وی پر لائیو دیکھتے تھے، جس سے ٹرمپ کو کروڑوں ڈالر کا منافع اور بین الاقوامی سطح پر بے پناہ شہرت ملی۔

ٹرمپ ہالی ووڈ کی فلموں میں اور ڈراموں میں بھی مختصر کردار ادا کرچکے ہیں، جس میں سے ایک فلم ’ہوم الون 2‘ بھی ہے۔ اس فلم کے کچھ مناظر پلازہ ہوٹل میں شوٹ ہوئے تھے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر کرس کولمبس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب ان کی ٹیم نے ہوٹل کی لابی میں شوٹنگ کی اجازت مانگی، تو ٹرمپ نے ان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اس سین میں وہ خود بھی نظر آئیں گے۔

ٹرمپ ریسلنگ کے بھی بڑے مداح ہیں اور ہال آف فیم میں بھی شامل ہیں۔ وہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے مالک ونس میک میہن کے ساتھ ایک میچ کا بھی حصہ بنے تھے۔ اس میچ میں شرط جیتنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ونس میک میہن کے بال مونڈ دیے تھے۔

امیروں کے کھیل ’گولف‘ کا شمار صدر ٹرمپ کے پسندیدہ ترین مشاغل میں ہوتا ہے، وہ دنیا بھر میں کئی لگژری گولف کلبز کے مالک ہیں۔

صدر بننے کے بعد امریکی میڈیا پر تنقید کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی میڈیا انڈسٹری کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وہ امریکی ٹی وی چینل ’این بی سی‘ پر نشر ہونے والے مشہور رئیلٹی شو ’دی اپرینٹس‘ کے میزبان تھے۔ اسی شو نے انہیں گھر گھر معروف چہرہ بنایا اور ان کا مشہور ڈائیلاگ ’یو آر فائرڈ‘ عالمی سطح پر مشہور ہوگیا۔

ایران جنگ کے دوران ایرانی میڈیا اور فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے اکثر اس ڈائیلاگ کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

کاروبار، شوبز اور کھیل کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں سیاست میں دھماکے دار انٹری دی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے باقاعدہ صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور 2016 کے عام انتخابات میں تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے والے امریکا کے 45 ویں صدر بن گئے۔

اس سفر میں بھی تنازعات نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جن کا امریکی ایوانِ نمائندگان نے دو بار مواخذہ کیا، تاہم دونوں بار سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت مکمل کرنے کے بعد وہ نومبر 2020 میں ہونے والے الیکشن میں دوبارہ کھڑے ہوئے مگر اس دفعہ وہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن سے ہار گئے۔ ٹرمپ اس الیکشن کے نتائج کو آج تک تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

نومبر 2024 کے الیکشن میں ٹرمپ نے شاندار کم بیک کیا۔ متعدد مقدمات اور عدالتی چیلنجز کے باوجود وہ ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہیرس کو شکست دے کر دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے اور تاحال اس عہدے پر موجودہ ہیں۔

ٹرمپ کی شہ سرخیوں میں رہنے کی خواہش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فروری 2021 میں امریکی عوام کو پارلیمنٹ پر حملے کے لیے اکسانے کے الزام پر ٹویٹر اور فیس بک نے ان کے آفیشل اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی تو ’ٹروتھ سوشل‘ کے نام سے سماجی رابطے کا ذاتی پلیٹ فارم لانچ کردیا۔

اب جب کہ دوسرے پلیٹ فارمز پر ان کے اکاؤنٹس بحال ہوچکے ہیں، ٹرمپ اب بھی اپنے زیادہ تر اہم بیانات اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ہی پوسٹ کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دیگر معاملات کی طرح ذاتی زندگی بھی تنازعات سے بھرپور رہی ہے۔ انہوں نے کُل 3 شادیاں کی ہیں، جن میں سے 2 بیویوں سے علیحدگی ہوئی اور اب وہ اپنی تیسری بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے کل 5 بچے ہیں اور ان کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔

ان کی پہلی شادی 1977 میں چیک ری پبلک سے تعلق رکھنے والی ماڈل ایوانا سے ہوئی، جن سے ان کے تین بچے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ایوانکا ٹرمپ اور ایرک ٹرمپ ہیں۔ یہ شادی 1992 میں ختم ہوگئی جس کی وجہ ٹرمپ کا مارلا میپلز (جو بعد میں دوسری بیوی بنیں) کے ساتھ افیئر قرار دیا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے 1993 میں امریکی اداکارہ مارلا میپلز سے دوسری شادی کی، جن سے ان کی بیٹی ٹفنی ٹرمپ پیدا ہوئیں اور یہ شادی بھی صرف 6 سال چل سکی۔

اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 2005 میں سلووینیا کی ماڈل میلانیا سے تیسری شادی کی، جو اب تک قائم ہے۔ میلانیا اس وقت امریکا کی خاتونِ اول کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں اور ان کا ایک ہی بیٹا ہے جس کا نام بیرن ٹرمپ ہے۔

امریکی سیاست میں عمر کا موضوع گزشتہ چند برسوں سے مسلسل زیر بحث رہا ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے سابق صدر جو بائیڈن کی عمر پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں اور اب 80 برس کی عمر میں پہنچنے کے بعد یہی بحث ان کے گرد گھوم رہی ہے۔

امریکی اخبار ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ کے مطابق ٹرمپ اپنی 80ویں سالگرہ منانے کے حوالے سے اندرونی طور پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔

ماضی میں وہ اپنے سیاسی مخالف جو بائیڈن کو عمر رسیدہ ہونے پر ’سلیپی جو‘ یعنی ’ہر وقت اونگھنے والا‘ کہتے رہے ہیں، اب جب کہ وہ خود اسی عمر کو پہنچ گئے ہیں لہٰذا وہ خود پر ’بوڑھے‘ ہونے کا لیبل لگنے کو پسند نہیں کرتے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 80 سال کی عمر میں بھی ٹرمپ صرف 4 گھنٹے سوتے ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ وہ رات گئے اور صبح سویرے اپنے معاونین اور وزرا کو ٹیکسٹ میسجز بھیجنے اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر طنزیہ پوسٹس شیئر کرنے کے عادی ہیں۔

ان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ڈاکٹرز انہیں صحت مند قرار دیتے ہیں، لیکن ان کی بڑھتی عمر کے آثار اب چہرے اور روزمرہ کے معمولات سے عیاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سابق وکیل ٹائی کوب نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ اب اہم میٹنگز کے دوران بھی تھکن کی وجہ سے سو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مخالفین اب انہیں ’سلیپی ڈان‘ کا طعنہ دینے لگے ہیں۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ سالگرہ سے قبل ٹرمپ نے اپنا سالانہ تفصیلی میڈیکل ٹیسٹ کروایا ہے۔ اس بار ان کا معائنہ 22 ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے۔

ایک اور مشہور برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ طبی معائنے کے بعد جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ مجموعی طور پر اچھی جسمانی صحت رکھتے ہیں اور ان کے دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کی کارکردگی مضبوط ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس صرف محدود معلومات فراہم کرتی ہیں اور عوام کو مکمل تصویر نہیں دکھاتیں۔

تمام تنازعات ایک طرف، مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ 80 برس کے ٹرمپ آج بھی امریکی سیاست، میڈیا اور عوامی مباحث کا مرکزی کردار ہیں۔ ان کے حامی ان کی شخصیت کو غیر معمولی کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، جب کہ ناقدین انہیں امریکی تاریخ کی سب سے متنازع شخصیات میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن اس پر تقریباً سب متفق ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نظر انداز کرنا کبھی آسان نہیں رہا۔

Read Comments