ٹھٹھہ میں محرم کی صدیوں پرانی روایت، مجلس سے پہلے نقارہ کیوں بجایا جاتا ہے؟
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کی قدیم امام بارگاہوں میں صدیوں پرانی روایات ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہیں۔ مجالس اور جلوسوں کے آغاز کے اعلان کے لیے نقارہ بجانے کی روایت آج بھی اسی عقیدت اور احترام کے ساتھ نبھائی جا رہی ہے، جس نے ماضی اور حال کو ایک خوبصورت ثقافتی اور مذہبی رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔
محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ٹھٹھہ، مکلی اور سندھ کے دیگر تاریخی علاقوں میں واقع امام بارگاہوں سے نقاروں کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ صدیوں پر محیط یہ روایت آج بھی عزاداری کے ایام میں پوری عقیدت کے ساتھ برقرار رکھی گئی ہے۔
ماضی میں جب مواصلات کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے تو نقارہ محرم الحرام کے آغاز، مجالس کے انعقاد اور ماتمی جلوسوں کے اوقات سے عوام کو آگاہ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ زندگی کے بیشتر شعبوں میں اپنی جگہ بنا لی، تاہم ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔
عزاداری کے منتظمین کے مطابق محرم کے دنوں میں مخصوص اوقات پر نقارہ بجایا جاتا ہے جس سے اہلِ علاقہ کو مجالس اور جلوسوں کے آغاز کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف مذہبی اہمیت کی حامل ہے بلکہ سندھ کے ثقافتی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نقارہ نوازی کی یہ روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے اور نئی نسل بھی اسے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ محرم الحرام کے دوران نقاروں کی آواز علاقے کے لوگوں کے لیے عقیدت، احترام اور تاریخ سے جڑے رہنے کی علامت بن چکی ہے۔
ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں محرم کے ایام میں گونجنے والے یہ نقارے آج بھی ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صدیوں پرانی مذہبی روایات جدید دور میں بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہیں۔