پاکستان میں 'انسانی پلیسنٹا' کی اسمگلنگ کا پہلا بڑا کیس: یہ کیا ہے اور کہاں استعمال ہوتا ہے؟
پاکستان میں پہلی بار ایک مخصوص انسانی عضو ’پلیسنٹا‘ کی مبینہ اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق اسلام آباد سے پکڑے گئے ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ وہ اسپتالوں سے انسانی ’پلیسنٹا‘ حاصل کر کے اسے پراسیس کرنے کے بعد بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاکستان میں گردوں سمیت دیگر انسانی اعضا کی غیرقانونی تجارت کی خبریں تو ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں لیکن انسانی ’پلیسنٹا‘ کی اسمگلنگ کا یہ پہلا بڑا کیس ہے جس نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ طبی حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس نے کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر پلیسنٹا کیا ہوتا ہے؟ اسے طبی فضلہ قرار دینے کے باوجود اس کی غیرقانونی تجارت کیوں کی جاتی ہے؟ دنیا کے کن ممالک میں اس کی مانگ ہے اور طبی ماہرین اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آئیے ان تمام سوالات کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
پلیسنٹا کیا ہوتا ہے؟
پلیسنٹا، جسے عام زبان میں نال بھی کہا جاتا ہے، حمل کے دوران ماں کے رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے۔ یہ زچگی تک ماں اور بچے کے درمیان لائف لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ عضو ماں کے جسم سے آکسیجن اور غذائی اجزا بچے تک پہنچاتا ہے جب کہ بچے کے خون سے غیر ضروری اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور یہ جسم سے باہر آ جاتا ہے۔
طبی قوانین کے مطابق اسے انفیکشیئس میڈیکل ویسٹ (طبی فضلہ) مانا جاتا ہے اور اسے مخصوص طریقوں سے تلف کیا جانا ضروری ہے۔
دنیا کی مختلف تہذیبوں میں پلیسنٹا کے حوالے سے مختلف نظریات رائج رہے ہیں مگر آج بھی کئی ممالک میں اس کا استعمال عام ہے۔ قدیم روایات پر یقین رکھنے والی کئی قوموں میں اسے مقدس سمجھ کر دفن کردیا جاتا ہے، کہیں اسے روحانی علامت تصور کرکے تعویز کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ امریکا اور یورپ سمیت جدید معاشروں میں اس کے کیپسولز اور بیوٹی پراڈکٹس میں استعمال کی روایت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
پاکستان میں سامنے آنے والا کیس کیا ہے؟
اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کو اسلام آباد میں انسانی اعضاء کے کاروبار اور فروخت کی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات موصول ہوئی تھیں، جس پر 24 جون کو ایک نجی رہائش گاہ پر ایف آئی اے کے ہمراہ مشترکہ چھاپہ مارا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار افراد میں تینوں چینی شہری اس گینگ کے مرکزی کردار کے طور پر جب کہ دو پاکستانی ان غیر ملکیوں کے لیے بطور ڈرائیور اور مقامی سہولت کار کام کر رہے تھے جو اسپتالوں سے یہ مواد اکٹھا کرکے پراسیسنگ سینٹرز تک پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ’ہوٹا‘ کی ایک آفیسر حنا کنول نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسپتالوں سے 800 روپے فی پلیسینٹا خریدتے تھے اور جو مبینہ انسانی پلیسنٹا برآمد کیا گیا ہے وہ بیرونِ ملک اسمگل کیا جانا تھا۔
حنا کنول کا کہنا تھا کہ ملزمان پہلے اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ یہ انسانی نہیں بلکہ بھیڑ کا پلیسینٹا ہے، جسے وہ کمرشل بنیادوں پر استعمال کے لیے بیرونِ ملک بھجوانا چاہتے تھے۔ تاہم دورانِ تفتیش ملزمان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ انسانی پلیسینٹا ہے۔
قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
پاکستان کے ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت انسانی جسم کے کسی بھی عضو، ٹشو یا جسمانی حصے کی تجارتی خرید و فروخت ممنوع اور سنگین جرم ہے۔
اسی طرح عالمی طبی اصول بھی انسانی پلیسنٹا کو طبی فضلہ قرار دیتے ہیں، جسے محفوظ انداز میں تلف کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے۔
پھر اس کی مانگ کیوں موجود ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اعضاء کی تجارت پر پابندی کے باوجود بلیک مارکیٹ خصوصاً چین اور ویتنام میں انسانی پلیسنٹا کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اس مکروہ دھندے کے پیچھے روایتی توہمات بھی موجود ہیں اور اسے مختلف اشیاء و ادویات کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
روایتی توہمات اور انسانی صحت پر اثرات کا ذکر ہم آگے کریں گے، پہلے غیر قانونی کاسمیٹک انڈسٹری اور ان پراڈکٹس کی بڑھتی ہوئی مانگ کا جائزہ لیتے ہیں۔
کاسمیٹکس انڈسٹری اور پلیسنٹا
عالمی بیوٹی اور کاسمیٹکس مارکیٹ میں ویتنام کا شمار ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔ اس مارکیٹ میں بھیڑ اور ہرن کا پلیسنٹا ایک انتہائی مقبول اور قانونی اینٹی ایجنگ جزو مانا جاتا ہے۔
ویتنام چوں کہ چین کا پڑوسی ملک ہے لہٰذا یہاں بھی چین اور دیگر مشرقی ایشیائی ممالک کی طرح یہ تصور عام ہے کہ انسانی پلیسنٹا میں کئی ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو نہ صرف انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ خوبصورتی میں اضافے اور بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے کے لیے انتہائی مؤثر ہیں۔
چینی ویب سائٹ ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھیڑ یا ہرن کا پلیسنٹا حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں کو بھاری رقوم، فارم کی دیکھ بھال، جانوروں کی خوراک اور قانونی ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ دھندا مکمل طور پر غیر قانونی اور خفیہ ہوتا ہے، اسی لیے اسمگلرز ان تمام اخراجات سے بچ جاتے ہیں اور یہی اس گھناؤنے دھندے کا سب سے اہم پہلو ہے جس کی وجہ سے یہ کاروبار پھیلتا جارہا ہے۔
عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت بین الاقوامی طبی ادارے انسانی پلیسنٹا کو ’پیتھولوجیکل ویسٹ‘ میں شمار کرتے ہیں اور اس عمل کو شدید خطرناک قرار دیتے ہیں کیوں کہ اسپتال کے فضلے سے اٹھائے گئے پلیسنٹا کی کوئی طبی جانچ نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی مہلک وائرسز عام گھریلو پروسیسنگ سے ختم ہوتے ہیں۔
یعنی اگر خدانخواستہ ماں کو ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس یا کوئی اور مہلک بیماری ہو تو یہ وائرس پلیسنٹا کے ذریعے ان مصنوعات کو استعمال کرنے یا کھانے والے انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔
ان ہی خدشات کے پیشِ نظر ویتنام کی وزارتِ صحت نے انسانی جسم کے کسی بھی حصے یا خلیات سے بننے والی کاسمیٹکس کی تیاری، امپورٹ اور فروخت پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم اس کے باوجود اسمگلرز انسانی پلیسنٹا پر جانوروں کے اعضا کا لیبل لگا کر سپلائی کرتے ہیں، جس کی خود چینی میڈیا بھی تصدیق کرچکا ہے۔ جب کہ پاکستان میں پکڑے جانے والے گینگ کے انکشافات بھی اس کی واضح مثال ہیں۔
چینی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی مختلف ای کامرس ویب سائٹس پر انسانی پلیسنٹا سے بنی اشیاء کی آج بھی بہت زیادہ مانگ ہے اور یہ اشیاء مختلف ناموں اور خفیہ طریقوں سے فروخت کی جاتی ہیں۔
چین میں پلیسنٹا کو خشک کرکے پاؤڈر یا کیپسول میں تبدیل کرنے کا ایک الگ کاروبار بھی موجود ہے، کیوں کہ جدید دور میں اسے براہِ راست کھانے کے بجائے اس شکل میں استعمال کرنا پسند کیا جاتا ہے۔
بھارت میں اسی موضوع پر کی گئی سائنسی تحقیق کے مطابق قدیم طریقہ علاج میں انسانی پلیسنٹا کو روایتی ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ روایتی عقائد کے مطابق اسے جسمانی کمزوری، توانائی کی کمی اور بانجھ پن جیسے مسائل کے علاج میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
شمالی امریکا کے بعض مقامی قبائل میں پلیسنٹا کو بطور خوراک استعمال کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ بھارت کے بعض قبائل میں اسے افزائشِ نسل سے جوڑا گیا، جب کہ جنوبی بھارت کی تامل ثقافت میں اسے طاقت اور روحانی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بعض قومیں اس عضو کو تعویذ کے طور پر بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
روایتی چینی طب میں انسانی نال کو ’زی ہی چے‘ کہا جاتا ہے اور اسے صدیوں سے مختلف بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بعض عقائد کے مطابق اسے کمزور مدافعتی نظام، تپ دق، خون کی کمی اور تولیدی صحت کے مسائل کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں آج بھی یہ تصور عام ہے کہ انسانی پلیسنٹا غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
پلیسنٹا کے غذائی استعمال سے متعلق نظریات کے ثبوت کے طور پر جانوروں کو بطور دلیل پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تمام ایسے ممالیہ جانور جن میں پلیسنٹا موجود ہوتا ہے، بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اسے کھا لیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے جانوروں کو غذائی اجزا کی کمی پوری کرنے، ہارمونز کو متوازن رکھنے، درد میں کمی لانے اور شکاری جانوروں سے اپنی موجودگی چھپانے میں مدد ملتی ہے۔
اس نظریے نے بھی یہیں سے تقویت پکڑی کہ جانوروں کی طرح خواتین بھی زچگی کے بعد ڈپریشن سے بچاؤ اور دیگر جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پلینسٹا کو قدرتی بحالی کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ چین نے 2005 میں انسانی پلیسنٹا کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی جب کہ 2015 میں اسے سرکاری روایتی ادویات کی فہرست سے بھی نکال دیا تھا۔
تاہم مغربی ممالک اور ایلیٹ کلاس میں اب یہ معاملہ فیشن کے طور پر دوبارہ سے متعارف ہونے لگا ہے۔ ہالی ووڈ کی کئی مشہور شخصیات نے بھی زچگی کے بعد اپنا پلیسنٹا کھانے یا اس کے کیپسول بنوا کر استعمال کرنے کے دعوے کیے۔
ان شخصیات میں مشہور امریکی رئیلٹی ٹی وی اسٹار کِم کردیشین، ان کی بہن کورٹنی کردیشین، مشہور امریکی سپر ماڈل کریسی ٹیگن، مشہور اداکارہ جنوری جونز اور گلوکارہ ہلیری ڈف شامل ہیں۔
کِم کردیشین نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے ہی ہارمونز سے تیار کردہ پلیسنٹا کیپسولز کھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس سے انہیں توانائی ملی اور وہ زچگی کے بعد کے ڈپریشن سے محفوظ رہیں۔
واضح رہے کہ تمام معتبر طبی ادارے کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان تمام روایتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔ اب تک ایسا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ جانوروں کی طرح انسانوں کے اپنا پلیسنٹا کھانے سے کسی بھی قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہوں، البتہ اس عمل سے صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ضرور موجود ہے۔
