مون سون بارشیں: چنیوٹ میں سیلابی ریلے سے تباہی، جہلم میں نالے کا بند ٹوٹنے سے آبادیاں محصور

پنجاب میں 24 گھنٹوں میں کچے مکانات گرنے اور کرنٹ لگنے سے 9 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے ہیں۔
شائع 26 جولائ 2026 05:26pm

لاہور سمیت پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا تیسرا سپیل جاری ہے، چنیوٹ میں دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی جب کہ جہلم میں نالے کا بند ٹوٹنے سے قریبی آبادیوں کی مشکلات بڑھ گئیں۔ 24 گھنٹوں میں بارشوں کے دوران کچے مکانات گرنے اور کرنٹ لگنے سے 9 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں مون سون بارشوں تیسرا اسپیل کل تک جاری رہے گا۔

پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، لاہور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ نورپور تھل میں 115 ملی میٹر اور گوجرانولہ میں 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، اس کے علاوہ گجرات میں 94، نارووال میں 68، منڈی بہاؤالدین میں 65، سیالکوٹ میں 52، لاہور میں 37 اور جہلم میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جب کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ 5 روز کے دوران مجموعی طور پر 450 ملی میٹر تک ریکارڈ بارش ہو چکی ہے۔

بارشوں کے سبب جہلم کے سب سے بڑے برساتی نالے ”بنہاں“ کا بند ٹوٹ گیا، جس کی مرمت کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا، قریبی آبادیاں محصور ہو کر رہ گئیں۔

دوسری طرف چنیوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں ایک لاکھ 8 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، جو قریب واقع فصلوں اور دیہاتوں میں داخل ہو چکا ہے۔ گجرات میں 202 ملی میٹر بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورت حال پیدا ہوئی تاہم واسا کی ٹیمیں رات بھر نکاسیِ آب میں مصروف رہیں۔

مون سون بارشوں سے دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو گئی مگر 24 گھنٹے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مستحکم رہا۔ دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ جب کہ چناب میں ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل 27 جولائی تک جاری رہے گا، طوفانی بارشوں کے باعث مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جب کہ نشیبی علاقوں میں طغیانی کا شدید خطرہ ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اضلاع کو عملہ اور مشینری ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

پنجاب میں بارشوں سے نقصانات

دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ 24 گھنٹوں میں بارشوں کے باعث کچے مکانات گرنے اورکرنٹ لگنے سے 9 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مون سون بارشوں کے دوران صوبے بھر میں مختلف حادثات میں 29 شہری جاں بحق جب کہ 203 زخمی ہو چکے ہیں۔ بارشوں سے 52 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اور 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے جب کہ اکثر اموات خستہ حال عمارتوں، بوسیدہ چھتیں اور کچے مکانات گرنے، آسمانی بجلی اور کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے مون سون کے تیسرے اسپیل کے پیشِ نظر تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور واضح کیا ہے کہ بارشوں سے اربن اور فلیش فلڈنگ کا شدید خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے تمام ڈی سیز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ یقینی بنانے کے احکامات دیے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جب کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کچے و خستہ حال مکانات میں رہائش سے گریز کریں اور بچوں کو بجلی کے کھمبوں اور نشیبی علاقوں کے قریب نہ جانے دیں۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں سے نقصانات

ادھر خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2 روز سے بارشوں کے دوران گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے 6 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے جب کہ 19 جولائی سے اب تک اموات کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق جاں بحق افراد میں 13 مرد، 3 خواتین اور 16 بچے جب کہ زخمیوں میں 16 مرد، 12 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر 72 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 55 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا اور 17 گھر مکمل منہدم ہوئے جب کہ بارشوں کے باعث 46 مویشیوں کے ہلاک ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تورغر، کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

بالائی اضلاع میں گلاف کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری

اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے نے بالائی اضلاع میں گلاف کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا، گرم موسمی حالات اور وقفے وقفے سے بارشوں کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پکھلنے، گلیشیئر جھیلوں کے حجم اور پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب اور تیز پانی کے بہاؤ کا بھی خطرہ ہے۔

پی ڈی ایم اے نے چترال اپر، چترال لوئر، اپر دیر، سوات، اپر کوہستان اور مانسہرہ کی انتظامیہ کو الرٹ کرتے ہوئے حساس گلاف مقامات کی مسلسل نگرانی اور بروقت وارننگ یقینی بنانے، خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلا کی مشقیں اور محفوظ مقامات کو تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو گلاف کے ممکنہ خطرے سے بروقت آگاہ کیا جائے جب کہ عوام اور سیاحوں کو دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیئر جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب جانے، کیمپنگ اور ٹریکنگ سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔

Read Comments