سعودی ائیرپورٹ کی بندش کی خبریں، روسی میڈیا کا دعویٰ غلط نکلا
روسی میڈیا اور بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گردش کرنے والی یہ خبر کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دستیاب سرکاری فضائی معلومات کے مطابق ایئرپورٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور صرف ایک رن وے کو محدود مدت کے لیے عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔
ہوابازی سے متعلق جاری کیے گئے سرکاری نوٹس ٹو ایئر مشنز نوٹم کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا رن وے تھری تھری آر/ پندرہ ایل عارضی طور پر بند کیا گیا ہے، تاہم ایئرپورٹ کے دیگر تمام رن ویز، ٹرمینلز اور پروازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ اس نوٹس میں کہیں بھی پورے ایئرپورٹ کی بندش کا ذکر موجود نہیں۔
اب تک سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن یا ریاض ایئرپورٹس کمپنی کی جانب سے ایسا کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جس میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مکمل بندش کی تصدیق کی گئی ہو۔ اس کے برعکس دستیاب معلومات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایئرپورٹ اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہوابازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک رن وے کی عارضی بندش ایک معمول کا آپریشنل طریقۂ کار ہے، جو دیکھ بھال، تکنیکی معائنے، حفاظتی اقدامات یا دیگر انتظامی وجوہات کی بنا پر نوٹس ٹو ایئر مشنز کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی عارضی بندش کا مقصد پروازی تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پورا ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اس نوعیت کے نوٹس معمول کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کے باوجود فضائی آپریشن متاثر ہوئے بغیر جاری رہتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر روسی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مکمل بندش سے متعلق گردش کرنے والے دعوے گمراہ کن اور مبالغہ آرائی پر مبنی قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ دستیاب سرکاری فضائی معلومات اس دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔