معاہدۂ مکہ: مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خلا پُر کرنے کی ایک کوشش

۔
شائع 10 اگست 2026 05:28pm

مسلمانوں کے لیے انتہائی اہمیت اور احترام کے شہر مکہ مکرمہ کی معنوی اور تاریخی فضائیں جب بھی کسی بین الاقوامی معاہدے کا مسکن بنتی ہیں، تو امتِ مسلمہ ایک غیر معمولی مسرت سے سرشار ہو جاتی ہے۔ لیکن بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی سائنس کی بنیاد جذبات پر نہیں، بلکہ جغرافیائی و معاشی حقائق اورناقابلِ تلافی سیکیورٹی مفادات پرقائم ہوتے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کو میڈیا کا ایک بڑا حصہ ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے کر جشن منا رہا ہے لیکن اگر اس معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ ایک ایسا سہ فریقی ڈھانچہ دکھائی دیتا ہے جس کے تینوں ستون تین مختلف جغرافیائی، عسکری اور سیاسی مداروں میں صرف گردش ہی نہیں کر رہے بلکہ ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ معاہدہ کتنا عظیم ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ جب واقعی کوئی بحران آئے گا، تو کیا یہ اتحاد عملی طور پر برقرار رہ سکے گا؟

“اس معاہدے کو اسلامی نیٹو کہنا میری رائے میں سوائے خام خیالی کے اور کچھ اس لیے نہیں کہ نیٹو کی کامیابی کا راز صرف اس کا آرٹیکل 5 نہیں تھا، بلکہ اس کا ایک متصل جغرافیائی خطہ (شمالی اٹلانٹک)، ایک یکساں وجودی خطرہ (سوویت یونین)، اور ایک مشترکہ سیاسی و معاشی فلاسفی پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت یکجا ہونے والے تین ممالک، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نہ تو جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے درپیش خطرات کا کوئی مشترکہ مرکز ہے۔

ترکیہ ایک نیٹو رکن ہے جس کی پہلی ترجیح بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کا خطہ ہے جب کہ سعودی عرب کا اصل چیلنج خلیج فارس، ایران اور اس کے پراکسیز ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی تمام تر عسکری حکمتِ عملی اور جوہری استعداد کا محور اس کی مشرقی سرحد (بھارت) ہے۔ ایسے میں ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ قراردینے کی منطق خود اس کے اپنے لاجسٹک اور اسٹریٹجک تضادات کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

سفارت کاری کی دنیا میں اعلانیے اور معاہدے بنانا جتنا آسان ہے، سرحدوں پر گولہ باری کے وقت ان پر عمل درآمد کروانا اتنا ہی پیچیدہ عمل ہے۔ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے نے عالمی ذرائع ابلاغ  میں توایک طاقت ور ’سیکیورٹی مثلث‘ تشکیل دے دیا ہے، لیکن میرے مشاہدے میں اس کے عسکری اور سیاسی معاملات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

تین مختلف براعظموں اور خطوں کی نمائندگی کرنے والے ان ممالک کے پاس نہ تو مشترکہ ملٹری کمانڈ اسٹرکچر ہے، نہ ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ وہ مکمل ہم آہنگی اور نہ ہی ایسا سیاسی اتفاقِ رائے جو ایک کے دشمن کو دوسرے کا دشمن بنا سکے۔ یہاں میں نے اس بظاہر پرکشش لیکن ساخت کے اعتبار سے تضادات سے بھرپور معاہدے کی انہی حدود کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان سرد جنگ کے دوران بننے والے فوجی اتحادوں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO)، سینٹو اور ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (SEATO)، سیٹو میں شمولیت کی سات دہائیاں بعد ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل ہو گیا ہے جس میں ایک سے زائد فریقین شامل ہیں جہاں تک اس معاہدے میں شامل ترکیہ کا تعلق ہے، تو وہ ماضی میں سینٹو معاہدے میں پاکستان کا قریبی عسکری و سیاسی حلیف رہ چکا ہے۔ یہاں میں سیٹو اور سینٹو کے حوالے سے گفتگو نہیں کروں گا   تاہم اس کا مختصر زکر ضرور کروں گا تاکہ پاکستان ترکی اور سعودی عرب کی اتحادوں کے حوالے سے پالیسی  سمجھانے کی کوشش کروں گا۔

سن 1955ء میں عراق، ترکیہ، برطانیہ، پاکستان اور ایران نے مل کر ایک دفاعی اتحاد بنایا جسے “بغداد پیکٹ کہا گیا، 1958ء میں عراق میں انقلاب کے بعد جب عراق اس اتحاد سے الگ ہو گیا، تو اس کا نام بدل کر CENTO (Central Treaty Organization) رکھ دیا گیا۔ ترکیہ اس معاہدے کا بنیادی اور سب سے اہم رکن تھا کیونکہ وہ نیٹو (NATO) کا رکن بھی تھا اور سوویت یونین کی سرحد کے بالکل ساتھ واقع تھا۔ ترکیہ نے پاکستان اور ایران کے ساتھ مل کر مغرب کا بلاک مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان اور ترکیہ دونوں نے اس اتحاد سے یہ سبق سیکھا کہ یہ بلاک ان کے اپنے قومی مفادات (مثلاً پاکستان کا بھارت سے تنازع یا ترکیہ کا قبرص کا مسئلہ) میں ان کی توقعات کے مطابق کام نہ آ سکا۔ پاکستان نے 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد سینٹو کے بکھرنے پر اس سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کی، جس کے بعد یہ اتحاد ختم ہو گیا۔

سعودی عرب نے بغداد پیکٹ کو ”عرب یکجہتی اور غیر جانبداری کے خلاف مغربی سازش“ کے طور پر دیکھا اور اپنے آپ کو کسی بھی مغربی فوجی معاہدے سے دور رکھا۔ سعودی عرب نے کسی کثیر القومی (Multilateral) معاہدے میں شامل ہونے کے بجائے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی شراکت داری کو ترجیح دی۔

آج کی صورتِ حال میں بنیادی فرق یہ ہے کہ 70 سال پہلے یہ ممالک امریکہ کے سیکیورٹی کے نیچے متحد ہوئے تھے، جبکہ آج یہ تینوں ممالک مغرب سے ہٹ کر ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے اپنے علاقائی اور معاشی و اسٹریٹجک مفادات کے گرد گھومتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ اور اس کی جغرافیائی اہمیت کی۔ اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘ تاہم، اگر جذبات، مذہبی نعروں اور ظاہری بیانیے سے ہٹ کر اس کا مجرد اور سائنسی سیاسی تجزیہ کیا جائے، تو یہ معاہدہ بظاہر تضادات کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ان تین برادر ممالک نے آپس میں کوئی دفاعی معاہدہ کیا ہو، ترکیہ اس سے قبل قطر کے ساتھ اور پاکستان ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔ تاہم، اس تمام تر تاریخ کے باوجود جب قطر اور سعودی عرب پر ایران کی طرف سے حملے ہوئے تو کوئی بھی حلیف ملک ان کا عملی دفاع نہ کر سکا اور نہ ہی جواب دے سکا۔ خاص طور پر سعودی عرب نے ماضی میں بھی متعدد ایسے اتحادات تشکیل دیے جو کبھی فعال نہ ہو سکے۔

سعودی عرب نے 2015 میں سوائےعمان کے جی سی سی کے تمام عرب ممالک پر مشتمل اتحاد عاصفۃ الحزم  تشکیل دیا جس میں متحدہ عرب امارات اور  سوڈان کی  ریپڈ سپورٹ فورسز کے علاوہ کسی نے عملی حصہ نہیں لیا، اور بعد میں امارات اور یہ فورسز بھی  اس معاہدے کو اپنے مفاد میں نا پاکر الگ ہو گئیں۔ قطر ، کویت اور بحرین جزوی طور پر شریک ہوئے اور ایک سال کے دوران وہ بھی اس معاہدے سے باہر  ہو گئے۔ 2015 میں ہی  سعودی عرب نے 41 ممالک پر مشتمل  اسلامی ملٹری الائنس  تشکیل دیا یہ اتحاد بھی کاغذات تک محدود رہا اور کسی ملک نے کوئی عملی حصہ نہیں لیا۔

حال ہی میں سعودی عرب نے 14 ممالک پر مشتمل ایک اور اتحاد ’ریڈ سی الائنس‘ بنایا اور اس میں بھی اب تک کسی نے زبانی بیانات کے علاوہ عملی طورپر حصہ نہیں لیا۔ نہ تو اس کا کوئی اجتماعی عسکری منصوبہ ہے اور نہ ہی مشترکہ شناختی پروگرام،  یہ محض ایک ظاہری اور میڈیا کی حد تک اتحاد معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد صرف حوصلے بلند کرنا ہے لیکن عملی اقدامات نہیں۔

تاریخ اور جیو پولیٹکس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اتحاد جب بھی مذہب، مسلک یا محض جذبات اور جلد بازی کی بنیاد پر تشکیل دیے جاتے ہیں، وہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ ریاستوں کی خارجہ پالیسیاں اور عسکری حکمتِ عملیاں پسند و ناپسند یا نظریاتی حمیت سے نہیں، بلکہ قومی و معاشی مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔ ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے فریم ورک کا گہرا جائزہ لیا جائے تو مجھے اس کے اندر مفادات کا ایک شدید اور ناقابلِ تلافی تضاد نظرآتا ہے۔

اس معاہدے میں سب سے پہلا اور بڑا سوال ”مشترکہ دشمن“ کے تعین کا ہے۔ اگر ایران، حوثی یا عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں سعودی عرب پر حملہ کرتی ہیں، تو کیا ترکیہ اور پاکستان ان کے خلاف باقاعدہ عسکری میدان میں اتریں گے؟ اس پر میرا جواب ہے کہ یقیناً نہیں۔ کیوں کہ جغرافیائی اور جیو پولیٹیکل حقیقتوں کے تحت پاکستان اور ترکیہ کے لیے ایران کے ساتھ اپنی براہِ راست سرحدوں کا تحفظ عربوں کے ساتھ جذباتی رشتے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

پاکستان اور ترکیہ ہرگز ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں میں حصہ لے کر دنیا بھر میں یہ تاثر نہیں دینا چاہیں گے کہ وہ عملی طور پر غیرقانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور مغرب کے مفادات  کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس وقت ایران براہِ راست امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ  جنگ میں مصرو ف ہے جس کے نتیجے میں اب تک ایران کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، اس کی ٹاپ لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ  سپریم لیڈر رہبر معظم علی خامنہ اور ان کے خاندان کے کئی افراد شہید ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب، اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کا ملٹری تصادم ہوتا ہے، تو سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے بھارت کے خلاف عسکری مداخلت کا تصور محض ایک خام خیالی ہے، سعودی عرب نے بھارت میں بالخصوص توانائی، پیٹرو کیمیکلز، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 100 ارب ڈالر کی طویل المدتی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ سعودی عرب میں مقیم 25 لاکھ سے زائد بھارتی تارکینِ وطن ہر سال اربوں ڈالر بھارت بھیجتے ہیں، جو بھارتی معیشت کا بڑا سہارا ہیں۔ اسی طرح دوسری ترکیہ اور بھارت  نے جلد ہی باہمی تجارت کو 15 ارب ڈالر تک لے جانے کا مشترکہ ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ریاض اور انقرہ کے بنیادی معاشی مفادات نئی دہلی کے ساتھ اتنے گہرے اور اربوں ڈالر کے بوجھ تلے جڑے ہوئے ہیں کہ وہ کسی بھی عسکری یا سیاسی بحران میں پاکستان کی خاطر بھارت کے ساتھ اپنے اس معاشی شریان (Economic Lifeline) کو کبھی کاٹنے کا خطرہ نہیں مول لیں گے، یہ ہے وہ مفاد جس پر ملکی خارجہ پالیسز مرتب کی جاتی ہیں یعنی معاشی اور قومی مفاد۔

اس اتحاد کو اسلامی نیٹو  قرار دینے والوں نے شاید یہ نہیں سمجھا ہے کہ کسی بھی واقعی اور عملی مشترکہ دفاعی معاہدے کو اس کی اصل روح کے مطابق قائم کرنے سے قبل مداخلت کی نوعیت، ہدف، طریقہ کار، خطرے کے حجم کا تعین اور کسی بھی رکن کے مفادات کو نقصان نہ پہنچنے جیسے پیچیدہ امور حل کرنے ہوتے ہیں۔ یہ اتحاد بغیر کسی پیشگی تیاری، بحث اور مقدمات کے اچانک اور تیزی سے سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پسِ پردہ صرف مالی حساب کتاب ہیں اور اسے مستقبل میں بے شمار عملی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس  اتحاد کو اگر نیٹو سے موازنہ کیا جائے تو نیٹو کے پاس ایک مشترکہ کمانڈ، تیار فورسز، ایک بجٹ، مخصوص ہنگامی منصوبے، تیز رفتار فیصلے کرنے کا طریقہ کار، مقصد کی ہم آہنگی ، مشترکہ حریف اور مشترکہ اسلحہ سازی کے کارخانے موجود ہیں۔ اگر ہم ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کا جائزہ لیں، اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس میں ہمیں کسی مشترکہ کمانڈ، کسی مستقل مشترکہ فوج، کسی بجٹ، کسی مشترکہ حریف کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

مفادات کے ٹکراؤ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ اور لاجسٹک نقل و حمل کی بنیادی دشواریاں بھی اس اتحاد کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہیں۔ فوجی حکمتِ عملی کا مسلمہ اصول ہے کہ بغیر کسی متصل سرحد کے محض جذبات پر قائم دفاعی بلاک سیکیورٹی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

نیٹو اور ماضی کا ’وارسا پیکٹ‘ اسی لیے عسکری لحاظ سے مؤثر ثابت ہوئے کیوں کہ ان کا جغرافیہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھا اور ان کی افواج اور رسد کے راستے بلا رکاوٹ ایک دوسرے کی مدد کو پہنچ سکتے تھے۔ اس کے برعکس، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طویل جغرافیائی فاصلے اور کئی ایسے متحارب ممالک و گروہ موجود ہیں، جو بحران کی صورت میں رسد کی کسی بھی کوشش کو فوراً ناکارہ بنا سکتے ہیں۔  

رسد کے اس  بلائنڈ اسپاٹ کی سب سے واضح مثال ایران کی صورت میں موجود ہے اگر بالفرض ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم  ہوجاتا ہے، تو پاکستان کی تمام تر زمینی اور بحری رسد مفلوج ہو کر رہ جائے گی کیوں کہ ایران ان دونوں کے بالکل درمیان واقع ہے۔ بحیرہ عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کا علاقہ ایران کے جدید اینٹی شپ میزائلوں اور بحری صلاحیتوں کی حدود میں آتا ہے، جہاں سے سعودی عرب کو کسی بھی قسم کی لاجسٹک یا عسکری معاونت فراہم کرنا ناممکنات میں سے ہوگا۔

کسی اتحاد کا جغرافیہ متحد نہ ہو اور ان کے حریف مشترکہ نہ ہوں، تو ہنگامی صورتِ حال میں خطرے کی نوعیت کو سمجھنے اور سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت ضائع ہو جاتا ہے اور عسکری تاریخ گواہ ہے کہ ملٹری تحاد ہمیشہ فیصلے میں تاخیر اور بے یقینی کی وجہ سے ہی تباہ ہوتے ہیں۔

درحقیقت، یہ نیا بلاک مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔ امریکہ کے رفتہ رفتہ کم ہوتے اثر و رسوخ اور امریکی اڈوں کی تنزلی نے سعودی عرب کو متبادل راستے تلاش کرنے پر تو مجبور کیا ہے، لیکن اس کا نتیجہ  میری دانست میں  اسٹریٹجک الجھن کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

مسلمہ اصول یہ ہے کہ ممالک کے درمیان مذہب پر مفاد کی برتری ہے اور سعودی عرب نے اس اتحاد کو ریاض کے بجائے مکہ میں دستخط کرنے اور اس معاہدے کا نام ہی ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ رکھا ہی اس لیے ہے کہ اس کو مذہبی حمیت کا تاثر دیا جائے لیکن یہاں ایک عالمگیر اور سیاسی اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جو اتحاد  دینی بھائی چارے  یا “مشترکہ شناخت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، وہ ذاتی قومی مفاد سے ٹکراتے ہی تباہ ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Comments